تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 11 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 11

گردن زدنی سمجھا گیا۔شاید کسی اور مسلمان فرقہ کو اس قدر نقصان ہندوستان میں نہیں پہنچا جس قدر کہ احمدی جماعت کو پہنچا ہے۔اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کا امام گاندھی جی کے بیان کردہ اصل کی ترجمانی کے صحیح طریق ان کے سامنے پیش کر رہا تھا ہم نے ایک سچائی کے لئے دونوں ملکوں میں تکلیف اٹھائی اور شاید دونوں ملکوں کے متعصب لوگوں کے ہاتھوں سے آئندہ بھی ہم دونوں ملکوں میں تکلیف اُٹھائیں گے لیکن ہم اس دائمی سچائی کوجو قرآن کریم میں بار بار بیان کی گئی ہے کبھی نہیں چھوڑ سکتے کہ جوشخص جس حکومت میں رہتا ہے وہ اس کا فرمانبردار رہے اور اس کے ساتھ پوری طرح تعاون کرے۔اور اگر کسی وقت وہ یہ مجھتا ہے کہ وہ اپنے مذہب اور اخلاق کو قائم رکھتے ہوئے اس ملک میں رہ نہیں سکتا تو اس ملک سے ہجرت کو جائے۔اگر اس ملک کی حکومت اُس کو ہجرت بھی نہ کرنے دے تو پھر وہ آزاد ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے جو بھی ذریعہ بخشا ہو اُسے کام میں لاتے ہوئے اپنی آزادی کی جد و جہد کرے۔جب کانگریس گورنمنٹ کے خلاف کھڑی ہوئی تھی تو انہی اصول کی وجہ سے میں نے کانگریس کی مخالفت کی تھی ورنہ میں کانگرس کا دشمن نہیں تھا۔نہ ملک کی آزادی کا دشمن تھا۔کانگریس کے کئی لیڈر میرے واقف تھے اور بعض دوست بھی اور وہ مختلف اوقات میں مجھ سے تبادلۂ خیالات کرتے رہتے تھے۔وہ جانتے تھے اور جانتے ہیں کہ یکیں ملک کی آزادی کا اُن سے کم حامی نہیں تھا۔مجھے ان سے اختلاف صرف اُس طریقہ کار کے متعلق ہے؟ جو میرے نز دیک ملکی حکومت کے بن جانے پر بھی تفرقہ کو بڑھانا پہلا جاتا ہے۔جو کچھ میں نے اس وقت کہا تھا آج پاکستان اور ہندوستان میں لفظاً لفظ صحیح ثابت ہو رہا ہے۔حکومت کے بائیکاٹ کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔سٹرائیکیں کی جارہی ہیں اور ملک میں رہتے ہوئے انتشار اور اختلاف کے سامان پیدا کئے جا رہے ہیں۔لیکن جو انگریز کے زمانہ میں انگریز کے خلاف ایسی باتوں کی اجازت نہیں دیتا تھا۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ خود ملکی حکومتوں کے قائم ہو سجانے کے بعد پاکستان یا ہندوستان میں میں ایسی باتوں کی اجازت دے دیتا۔چنانچہ ہ را ایسے موقع پر جو پاکستان یا ہندوستان میں پیدا ہوا میں نے اپنی جماعت کو یہی حکم دیا کہ وہ حکومت وقت کی پورے طور پر وفاداری کریں اور جو ذمہ داریاں حکومت کی طرف سے شہریوں پر عائد کی جائیں ان ذمہ داریوں کو دیانتداری سے ادا کریں۔یقیناً تعلیم پاکستانی اور ہندوستانی حکومتوں کی نظر میں ایک نعمت غیر مترقبہ کبھی جانی چاہیئے تھی مگر افسوس کہ ہندوستان میں ایسا نہیں کیا گیا اور بعض صوبہ جاتی حکومتوں نے اس قیمتی خزانے کی مت در