تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 10 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 10

اگر میری بات کو مان لیا جاتا تو وہ خون ریزی جو مشرقی پنجاب اور کشمیر میں ہوئی ہے ہرگز نہ ہوتی۔ہم گلی طور پر آزاد بھی ہوتے مگر ہماری حیثیت اُن دو بھائیوں سے مختلف نہ ہوتی جو اپنے والدین کی جائداد تقسیم کر کے اپنے پھو ہے الگ کر لیتے ہیں۔وہ یقینا اپنی اپنی جائداد کے گلی طور پر مالک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ماتحت نہیں ہوتے۔ان کا کھانا پینا بھی الگ الگ ہوتا ہے۔ان کی آمد میں بھی الگ ہوتی ہیں اور ان کے خرچ بھی الگ ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے وہ بھائی بھائی ہوتے ہیں۔اگر ماں باپ کی جائداد سے تقسیم کرنے سے دو بھائی دشمن نہیں بن جاتے تو ہندوستان کے تقسیم کرنے سے مسلمان اور ہند و کیوں دشمن بن جائیں تقسیم وشنی نہیں پیدا کرتی تقسیم کے پیچھے کسی غلط روح کا ہونا دشمنی پیدا کرتا ہے میں چاہتا تھا کہ اس غلط روح کو کچل دیا جائے اور بھائیوں بھائیوں کی طرح مسلمان اور ہند و اپنی آبائی جائداد کی تقسیم کا فیصلہ کریں مگر میری اس آواز کو اس وقت نہ شناگیا۔میری راس آواز کو بعد میں بھی نہ سنا گیا۔پاکستان کے ایک متعقب بعنصر نے میرے ان خیالات کی وجہ سے مجھے پاکستان کا فقیہ کالمسٹ قرار دیا اور انہوں نے یہ نہ سوچا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جس کا اعلان بار بار قائد اعظم نے کیا تھا۔صرف فرق یہ تھا کہ قائد اعظم نے ایک مجمل اصل بیان کیا تھا اور میں مشروع سے ان تفاصیل کو بیان کر رہا تھا جن تفاصیل کے ذریعہ سے ہی قائد اعظم کا بیان کہ وہ اصل عملی صورت اختیار کر سکتا تھا۔میرے ان خیالات کی وجہ سے ہندوستان کے احمدیوں کو بھی ہندوستان میں گشتنی اور بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ :۔ہم اپنے ہندو بھائیوں کو خود اپنا جز و بنالیں گے مگر اس کے لئے ہمیں راستہ کو کھلا رکھنا چاہیے (الفضل ، شہادت ۳۲۵ امت) ور الرقمت چونکہ ہندوستان کے لئے ہماری کیا گیا تھا اس لئے بر صغیر کے ماحول کو اشاعت اسلام کے لئے ساز گار بنانے کا مسئلہ اولیت رکھتا تھا ورنہ حضور ایک بین الاقوامی تبلیغی جماعت کے آسمانی راہ نما تھے اسلئے امن کے معاملہ میں بھی علاقائی یا ملکی سطح کی بجائے مستقل طور پر ایک عالمی مسلک رکھتے تھے جو حضور کے الفاظ میں یہ ہے :- ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ ساری دنیا کی ایک حکومت قائم ہوتا باہمی فسادات دور ہوں اور انسانیت بھی اپنے جوہر دکھانے کے قابل ہو مگر ہم اس کو آزا د قوموں کی آزاد رائے کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں یا الفضل ۲۲ احاد ۲۲ اکتوبر ۱۹۳۵ )