تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 218 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 218

۲۱۳ کرنے کے علاوہ اس امر کی خاص طور پر صیحت کی گئی تھی کہ اس مقدس سفر کے دوران میں اپنے دلوں کی نیت کو پاک وصاف رکھنا چاہیئے اور دعاؤں پر خاص زور دینا چاہیئے تا کہ خدا تعالیٰ ایل سفر کو نہ صرف آپ کے لئے اور نہ صرف اہلِ قادیان کے لئے بلکہ تمام جماعت کے لئے اور احمدیت اور اسلام کے لئے مبارک اور مشر نمرات حسنہ بنائے، چنانچہ ارکان قافلہ نے روانہ ہوتے ہی دعائیں شروع کر دیں اور سفر کا زیادہ سے زیادہ وقت دعاؤں میں گزارا جب قافلہ واہگہ سرحد پر پہنچا تو شیخ محمود الحسن صاحب جنرل سیکرٹری جماعت لاہور اور شیخ نذیر احمد صاحب کے علاوہ خان محمد شفیع خان صاحب ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور بھی قافلہ کو الوداع کہنے کے لئے موجود تھے۔ضروری امور کی سر انجام دہی کے بعد پونے بارہ بجے قافلہ کے ارکان پیدا ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوئے۔امرتسر کے ڈپٹی کمشنر سردار بہادر سردار نریندرسنگھے صاحب نے ہندوستان کی طرف سے قافلہ کا خیر مقدم کیا پراسیس فوٹو گرافر نے آپ کی معیت میں قافلہ کی تصویر لی۔آپ کچھ عرصہ ٹھرنے کے بعد امر تسر پہلے آئے۔ہندوستانی سرحد پر قادیان کے دو درویش چوہدری فضل اللي صاحب اور بشیر احمد صاحب ٹھیکیدار بھی درویشان قادیان کی نمائندگی میں موجود تھے۔ڈی بھی صاحب امرتسر کے جانے کے بعد قابلہ ہوں میں سوار ہو کر ہندوستان کیسٹر آفس کے آگئے ڑکا جو سرحد سے تھوڑے فاصلے پر کا ہی گڑے نامی گاؤں کے قریب واقع ہے۔سامان وغیرہ کی تلاشی ہونے کے بعد ایک بیچ کر ہمیں منٹ پر انڈین پولیس کے حفاظتی دستے کے ہمراہ قافلہ روانہ ہوا پونے دو بجے امرتسرمیں سے گزرا اور پونے تین بجے بٹالہ پہنچ گیا یہاں بھی بعض درویش استقبال کے لئے موجود تھے۔چند منٹ بٹالہ ٹھرنے کے بعد قافلہ سری گوبند پور والی سڑک کے راستے سے قادیان روانہ ہوا پنجگرائیں کے موڑ پر اسے کچھ رکنا پڑا کیونکہ نمر کی پڑی کا دروازہ بند تھا۔جب یہاں سے قافلہ روانہ ہوا تو چند منٹ بعد ہی مینار بسیج نظر آنے لگا اسی وقت امیر قافلہ کے ارشاد پر اجتماعی دعا شروع کر دی گئی جو دیر تک جاری رہی۔جوں جوں منارہ اسی نمایاں نظرآتا تھا اور قادیان کی محبوب بستی قریب آتی جاتی تھی اہل قافلہ میں خوشی اور غم کے لیے ملے مہذبات سے عجیب کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔جب قادیان اور پر آگیا تو در و ایشان، قادیان کا مجمع نظر آنے لگا جو کئی گھنٹوں سے قافلہ کا منتظر تھا۔آخر وہ مبارک ساعت آگئی