تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 217
۲۱۲ جنازہ پڑھا گیا تھا۔یاد رکھو مقامات مقدسہ پرستش کے لئے نہیں ہوتے ہاں وہ اس لئے ضرور ہمارے لئے قابل احترام ہوتے ہیں تاکہ ہم انہیں دیکھ کر اپنے نفوس کا تزکیہ کرنے اور ان مقامات سے وابستہ برکات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔حضرت عرفانی صاحب نے حضرت سیٹھ محمد غوث صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- وہ بڑے مخلص، مفادم سلسلہ تھے۔وہ گداز تھے حضرت صاحب کی محبت میں اور یہی رنگ دوستوں سے ان کی محبت کا تھا ئیں مبارکباد دیتا ہوں ان کے بیٹے عزیزمحمد اعظم کو کہ انہیں آج ان کا تابوت یہاں لانے کی توفیق ملی : جلسہ کے ایام کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت وہ دعائیں، عبادتیں اور نمازیں تھیں جو اراکی کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور رحمتوں سے معمور رکھتی تھیں مسجد مبارک اور مسجد اقصی، دار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام خصوصاً بيت الدعاء بيت الذکر اور بیت الفکر تو مومنین کی خشوع وخضوع سے نکلی ہوئی دعاؤں اور مناجاتوں کی آماجگاہ بنی رہیں۔علاوہ ازیں صبح سوا پانچ بجے مساجد میں با جماعت نماز تہجد ادا کی جاتی جس میں احباب بڑے ذوق و شوق سے حصہ لیتے تھے۔مقبر بہشتی میں مزار حضرت مہدی موعود علیہ السلام پر حاضر ہو کر دعائیں کرنے والے احباب کا بھی ہر وقت تانتا لگا رہتا خط اینه قافلہ پاکستان مورخه ۲۵ ماه فتح (دسمبر بروز پیر صبیح قاقامہ پاکستان کے مختصر حالات سونے کے تن با ے سے اہورا منی بس سروس کی تھی نو بجے باغ و نہوں میں روانہ ہوا۔قافلہ کے امیر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لاہور تھے جو لیس نماز میں سوار تھے اور ان کے ماتحت لیس کے انچارج میاں عطاء اللہ صاحب وکیل امیر جماعت راولپنڈی اور میں ہے کے انچارج چوہدری محمد عبداللہ خاں صاحب امیر جماعت کراچی تھے۔اس موقع پر الوداع کرنے کے لئے بہت سے احباب جمع تھے۔پھر حضرت مولوی غلام رسولی صاحب راجیکی نے اجتماعی دعا کرائی اور پریس فوٹو گرافر نے فوٹو لئے۔روانگی کے وقت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی رقم فرمودی ضروری ہدایات کی ایک ایک کاپی تمام زائرین کو دے دی گئی۔ان ہدایات میں امیر قافلہ کی اطاعت الفضل ، جنوری ۱۹۵۷ نه صب تا حه :