تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 219 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 219

۲۱۴ جبکہ پانچ نیچے یہ ہیں موضع بیل کلاں سے مقبرہ بہشتی کی طرف بہانے والی سڑک پر باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب ٹھر گئیں۔درویشان قادیان نے قافلہ کا خیر مقدم کیا مقامی جماعت کے امیر حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل نے آگے بڑھ کر امیر قافلہ شیخ بشیر احمد صاحب سے مصافحہ اور معانقہ کیا اس موقع پر حضرت سیٹھ عبدالله اله دین صاحب آن سکندر آباد دکن اور ہندوستان سے تشریف لانیوالے شد و دیگر احباب بھی موجود تھے۔قادیان کے بعض ہندو سکھ اصحاب بھی آئے ہوئے تھے۔چونکہ نماز کا وقت بہت تنگ ہو رہا تھا اس لئے کیسوں سے اُترتے ہی قافلہ نے حضرت مولوی راجیکی صاحب کی اقتداء میں اسی جگہ نماز ظہر و عصرا داکیں۔نماز کے بعد ارکان قافلہ نے باری باری تمام مقامی احباب سے مصافحہ کیا پھر یہ سارا مجمع مقبر بہشتی ہیں اپنے آقا و مطار سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار مبارک پر حاضر ہوا اور بڑے درد، رقت اور سوز کے ساتھ لمبی دعا کرنے کے بعد قافلہ دار ایسیح میں داخل ہوا۔مورخه ۳۰ ماه فتح (دسمبر بروز ہفتہ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد ارکان قافلہ کا مسجد مبارک میں درویشان قادیان اور ہندوستان کے احمدی احباب سے تعارف اور ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا چنا نچہ مسجد کے مغربی حصہ میں ارکان قافلہ لائن میں کھڑے ہو گئے ہندوستانی احباب اور درویشان کرام باری باری لائن کے ساتھ گذرتے چلے بھاتے اور ہر دوست سے ملاقات کرتے جاتے۔ملاقات اور تعارف کے بعد پاکستانی زائرین سفر کی تیاری میں مصروف ہو گئے لیبوں پر سامان لدوانے کے بعد سوا نو بجے قافلہ کے ارکان اور مقامی احباب سب مقبرہ بہشتی میں جمع ہو گئے۔یہاں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے مزار مبارک پر لمبی الوداعی دعاکی گئی پھر قافلہ کی روانگی تک ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا سب احباب ایک دوسرے سے بغلگیر ہو رہے تھے مگر اس حالت میں کہ آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں تھے۔اخلاص اور درد سے بھری ہوئی یہ ملاقاتیں جاری رہیں حتی کہ دس بجکر پچپن منٹ پر اجتماعی دعا کے بعد لسبیں روانہ ہوگئیں جبکہ قافلہ کا ہر رکن اشکبار آنکھوں کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھا اور درویش بڑے درد اور رفت کے ساتھ یہ شعر پڑھ رہے تھے کہ سے ہم بھی کرتے ہیں دُعا اور آپ بھی مانگا کریں جلد شاہ قادیانی تشریف لائے تادیاں