تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 185
IA۔کر کے انہیں خوفزدہ نہیں کریں گے یہ پیچھے نہیں ہٹیں گے آپ مجھے اجازت دے دیں کہ میں تمھیں آدمی ساتھ لے کر کفار کے لشکر کے قلب پر حملہ کروں تا وہ تقر بتر ہو جائے۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا یہ بات خلاف عقل ہے کہ ۶۰ ہزار دشمن کے مقابلہ پر تئیس آدمی جائیں۔حضرت عکو میری نے کہا آخر ہم مر ہی جائینگے اور کیا ہوگا حضرت ابو عبیدہ نے کہا لیکن اتنی بڑی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔حضرت ابو عبیدہ نے حضرت خالد بن ولید کو بلایا اور ان سے کہا عکرمہ کیوں کہتا ہے۔خالد نے کہا عکرمہ نے ٹھیک کہا ہے جب تک دشمن پر ہمارا رعب نہیں پڑے گا وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا اس کے یہ معنے ہونگے که یکن تلین مسلمان مروا دوں۔خالد نے کہا آخر آدمی مرا ہی کرتے ہیں۔تب حضرت ابو عبیدہ نے عکرمہ کی بات مان لی۔ہاں انشا کر دیا کہ تین آدمی کی بجائے ساٹھ آدمی ان کے ساتھ کر دئے تا دشمن کے ہر ہزار کے مقابلہ میں ایک مسلمان ہو جائے۔دوسرے دن ان ساٹھ افراد نے اپنے گھوڑوں کی باگیں اٹھائیں اور ساتھ ہزار دشمن میں گھس گئے پہلی صف والے ابھی تلوار ہی اٹھا ر ہے تھے کہ یہ ویف گذر چکے تھے۔جب دوسری صف والے تلواریں اُٹھانے لگے تو یہ تیسری صف میں پہنچ چکے تھے۔دشمن فوج کا کمانڈر جس سے قیصر نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر اس نے مسلمانوں کے مقابلہ میں فتح حاصل کی تو وہ اسے اپنی لڑکی بیاہ دے گا۔وہ تخت پر بیٹھا ہوا تھا یہ وہاں پہنچے لشکر کو بھی ہوش آپکی تھی یہ مرتے گئے لیکن پیچھے نہ ہٹے۔جب یہ عین اس جگہ پر پہنچے جہاں کمانڈر بیٹھا تھا تو وہ گھبرا کر بھاگ اُٹھا لیکن ساٹھ کے ساٹھ یا تو زخمی ہو گئے یا مرگئے اتنے میں جب مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ جانباز سپاہی لڑ رہے ہیں تو انہوں نے دشمن پر حملہ کر دیا اور دشمن کو جب خیر پہنچی کہ ان کا کمانڈر بھاگ گیا ہے تو وہ بھی بھاگ گئے۔فتح کے بعد جب تلاش کیا گیا تو سوائے چند کے جو شدید زخمی تھے باقی سب مر چکے تھے۔گرمی کا موسم تھا شدت پیاس کی وجہ سے زخمیوں کی زبانیں باہرنکل رہی تھیں۔بعض سپاہی پانی کی گلیاں لے کر وہاں پہنچے جب وہ حضرت عکرمہ کے پاس گئے تو آپ کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی انہیں پانی پینے کے لئے کہا گیا جب وہ پانی پینے لگے تو ان کی نظر اپنی داہنی طرف پڑی آپ نے دیکھا کہ حضرت فضل حضرت عباس کے بھائی شدت پیاس کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں۔آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا اور کہا پہلے انہیں پانی دور جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے اپنے پہلو میں ایک اور زخمی دیکھا جو شدت پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا تھا انہوں نے اس کی طرف اشارہ