تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 184
164 ہاں یہ بالکل سچ ہے میں نے خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی ہے، عکرمہ نے کہا۔اچھا یکی چلتا ہوں لیکن لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ باتیں سنوں گا تب مانوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے تھے کہ مکرمہ کی بیوی اسے ساتھ لئے حاضر ہوئی انگریز نے کہا مد ( کریمی نو ابھی ایمان نہیں لایا تھا اور وہ آپ کو اسی نام سے پکارتا تھا، میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے آپ نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے۔عکرمہ نے کہا میری بیوی نے ایک اور بات بھی کہی ہے اور وہ یہ ہے کہ مکیں مگر میں اپنے مذہب کو مانتے ہوئے بھی رہ سکتا ہوں مجھے اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا جائے گا۔آپؐ نے فرمایا تمہاری بیوی ٹھیک کہتی ہے عکرمہ نے کہا اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکرمہ میں نے تجھے مسلمان ہونے کے لئے نہیں کہا عکرمہ نے کہا اتنا بلند حوصلہ اور ایثار خدا تعالیٰ کے رسول کے سوا اور کسی میں نہیں ہو سکتا جب میں نے اپنے کانوں یہ بات من لی کہ آپ نے مجھ جیسے شدید دشمن کو بھی معاف کر دیا ہے تو ئیں آپ کی رسالت پر ایمان لے آیا ہوں اب آگے دیکھو مکرمہ میں کتنی جلدی فرق پڑتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ یہ ہم صرف تمہارے قصوروں کو ہی نظر انداز نہیں کرتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تم کچھ مانگ لو اگر ہماری طاقت میں ہوا تو ہم تمہاری خواہش کو پورا کر دیں گے تو اس کے منہ سے یہ بات سجتی تھی کہ مجھے دو سو اونٹ دے دیں۔میرے مکان مجھے واپس دے دیں لیکن وہ کلمہ پڑھتے ہی بدل چکا تھا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ سے صرف اتنا عرض کرتا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ سے یہ دعا کہ ہیں کہ میں نے آپ سے لڑائیاں کر کے جو گناہ سہیڑے ہیں خدا تعالیٰ وہ گناہ مجھے معاف کر دے۔پھر اسی عکرمہ نے مسلمان ہونے کے بعد وہ قربانی دکھائی جس کی نظیر نہیں ملتی۔جب حضرت عمرہ کے زمانہ میں اسلامی فومیں قیصر کی نوجوں سے لڑنے کے لئے گئیں تو ایک جگہ پر دشمن کو زور حاصل ہو گیا دشمن نے ایک ٹیلہ پر عرب تیر انداز بھائے جو صحابہ کو پہچانتے تھے اور انہیں ہدایت تھی کہ صحابہ نہ کو چن چن کر ان کی آنکھوں پر تیر ماریں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اکثر صحابہ اندھے ہو گئے مسلمانوں کو فٹ کر پڑی کہ صحابہ کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں حضرت عکرمہ حضرت ابو عبیدہ نے کے پاس گئے۔حضرت ابو عبیدہ اسلامی فوج کے کمانڈر تھے اور کہا صحابہ کی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے جب تک ہم اچانک حملہ