تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 186
[A] کیا کہ پہلے اسے پانی پلاؤ۔دس آدمی زخمی پڑے ہوئے تھے ان دستوں کے پاس جب آدمی چھا گل لے کر گئے تو انہوں نے دوسرے کی طرف بھیج دیا تا کہ اسے پہلے پانی پلایا جائے۔جب وہ آدمی دسویں کے پاس پانی لے کر گیا تو وہ مر چکا تھا۔نویں کے پاس گیا تو وہ بھی مر چکا تھا۔آٹھویں کے پاس گیا تو وہ بھی مر چکا تھا۔اسی طرح وہ ہر ایک کے پاس سے ہوتا ہوا دوبارہ مکرمہ کے پاس گیا تو وہ بھی مر چکے تھے۔ب دیکھو کجا یہ کہ ابو جہل کی دشمنی کی یہ حالت تھی کہ اس نے انتہائی مخالفت کی اور کیا یہ کہ جب اسکے بیٹے عکرمہ کو بیتہ لگ گیا کہ اس کے باپ نے غلطی کی تھی تو وہی کہ یہ جو اپنی ذاتی عربات اور وجاہت کی خاطر اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کیا کرتا تھا اسنے اپنے آپ کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی خاطر اس طرح قربان کیا کہ اس کی نظیر کم ملتی ہے۔خالد ہیں بن ولید کو دیکھ امسلمان ان کا نام لیتے تھکتے نہیں لیکن وہ بھی رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کا اثر ترین دشمن تھا۔عمرو بن العاص کی بھی مسلمان تعریف کرتے ہیں کہ وہ بہترین جرنیل تھے لیکن وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشد ترین دشمن تھے۔ان کو دیکھو اور ان کی اولا دوں کو دیکھے احمد کے واقعات کو دیکھو وہ شخص جس کی وجہ سے فتح مبدل بشکست ہو گئی تھی وہ خالد بن ولید ہی تھے۔وہ حملہ جس کی وجہ سے سلمان لشکر میں کہرام مچ گیا تھا وہ خالد کا ہی کیا ہوا تھا اور خالد ہی ہے جس کے متعلق رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سيف من سيونِ اللہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔وہی خالد اسلام کی لڑائیوں میں اتنا زخمی ہوا کہ جب وہ مرنے لگا تو اس نے کہا میرے سر سے لے کر پاؤں تک کوئی ایسی جگہ نہیں جس میں تلوار کا نشان نہ ہو لیکن یہ وہی خالد تھا جس نے اسلامی لشکر کو پسپا کر دیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کر دیا تھا دوسرا جو نیل جس نے خاندہ کے ساتھ مل کر مسلمان لشکر پر حملہ کیا وہ عمر و بن عاص تھا جس نے بعد میں حضرت عمرہ کے زمانہ میں مصر فتح کیا لیکن جنگ احد کے وقت یہی دونوں تھے جنہوں نے حملہ کر کے صحابہ کو زخمی کر کے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم پر پھینک دیا اور آپ کو بھی زخمی کر دیا۔حضرت عمرو بن عاص کے بیٹے حضرت عبداللہ عمرو " آپ سے پہلے مسلمان ہو چکے تھے (جو لوگ حدیث سے واقف ہیں وہ عبداللہ بن عمرو ا ور عبد اللہ بن عمر میں فرق نہیں کرتے۔درحقیقت یہ دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے بہت سی روایات مروی ہیں، حضرت عمرو بن العاص جب فوت