تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 156 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 156

ہے :- ۱۵۲ یکم اکتوبین ائر کو ایک احمدی مولوی نور دین سات دوسرے احمدیوں کے ساتھ تبلیغی مہم پر پیک میں گیا۔یہاں کے غیر جدیوں نے ان مبلغوں کو گھیر لیا پھر ان پر کیچڑ پھینکی۔ان کے چہروں پر کالک کی اور گندے پانی میں سے انہیں ہنگا کر ریلوے سٹیشن اوکاڑہ تک پہنچایا۔پولیس میں اس واقعہ کی رپورٹ لکھائی گئی جس پر ایک شخص مولوی فضل الہی امیر دفعات ۱۴۷ ۳۲۲۰ زیر حراست لے لیا گیا۔اس گرفتار ہی کے خلاف احتجاج کے طور پر اوکاڑہ میں دکانیں بند ہوگئیں اور ہر اکتوبر کی رات کو ایک جلسہ عام ہوا جس میں ہزاروں اشخاص شامل ہوئے بہت سے مقررین نے تقریریں کیں جو بے انتہا اشتعال انگیز تھیں۔ایک مقرر نے جلسے کے نوجوان حاضرین سے اپیل کی کہ مرزائی فتنہ سے قوم کو نجات دلاؤ۔دوسرے دن محمد اشرف نے جو تقریریں سن چکا تھا ایک چھرے سے مسلح ہو کر غلام حمد کا تعاقب کیا جبکہ وہ اوکاڑہ جارہا تھا مباشرت نے غلام محمد کو ایک نہر کے قریب جالیا اور اس کے چھرا گھونپ دیا۔غلام محمد کا زخم کاری تھا چنانچہ وہ تھانے کو لے جانے سے پہلے ہی مر گیا محمد اشرف ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کیا گیا جہاں اس نے یہ بیان دیا :- پہلے یہ کہا کہ تمبر میں پھر کہا کہ اکتوبر کی تیسری تاریخ کو اوکاڑہ میں ایک جلسہ ہوا جس میں رضوان بشیر احمد، مولوی ضیاء الدین، قاضی عبد الرحمن ، چو ہد ری محبوب عالم اور صدر جلسہ نے جو غالباً قاضی تھے پر جوش تقریریں کی جن میں بتایا کہ مرزائی نبی کریم صل اللہ علہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں ہم حضور کی عظمت کے لئے اپنی جانیں دے دیں گے۔تقریر میں یہ کہا گیا کہ جولوگ ان کو (احمدیوں کو پہچان کر نابود کرنے پر آمادہ ہیں وہ اپنے ہاتھ اٹھائیں۔جلسے میں علم دین غازی کا ذکر بھی کیا گیا اور اس کی سرگذشت سنائی گئی میں نے اس سے پہلے بھی علم دین غازی کی سرگذشت پڑھی تھی اور ایک دفعہ اس کے مقبرے پر بھی گیا تھا۔اس کے بعد جلس ختم ہو گیا ئیں گھر واپس آگیا۔تقریروں کے الفاظ رات بھر میرے دماغ میں گونجتے رہے صبح اٹھ کر یں سائیکل پر یک جا گیا جہاں ماسٹر تفریکی چھٹی پر اپنے گھر گیا ہوا تھا۔ایک چک میں ٹھرا رہا تا وقتیکہ وہ سکول میں نہ آ گیا۔گاؤں کے چوک کی ایک دکان پر میں نے ایک سگریٹ پیا میجب یک باہر نکالا ما سٹر سکول میں نہ تھا مجھے یقین تھا کہ ماسٹر مرزائی ہے۔اور میں اسی نیت سے آیا تھا پک میں بکس نے ایک سید سے پوچھا کہ آیا حضور نبی کریم کے زمانے میں ہمارے بچوں کو پڑھانے پر کوئی کا فر مقرر تھا ؟ اس ماسٹر کو کیا حق ہے کہ وہ ہمارے پچک میں تقسیم ہے۔زمین الاٹ کرا رکھی ہے اور بچوں کو پڑھا رہا ہے۔اس کے بعد یکین نے ایک لڑکے سے