تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 155
جبکہ پولیس نے نقیض امین کے اندیشہ میں حافظ فضل الہی سابق صدر ومن کا نفرنس کو گرفتار کر لیا تو شہر کی فضا پھر سے مکدر ہوگئی اور کوئی تین بیان ہے کے قریب ہے۔اکتوبر کو عام ہڑتال اور رات کو مصنوعی چوک اوکاڑہ میں ایک جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔جلسہ میں مقررین نے نہایت اشتعال انگیز اور تهدید آمیز تقریریں کر کے عوام کے جذبات کو کافی حد تک اکسایا اور یہی اکساہٹ دوسرے دن یعنی ہر اکتوبر کو ایک مرزائی کے قتل پر منتج ہوئی۔ہے۔اکتوبر:۔اس دن کے لئے عام ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا چنا نچہ صبح سے ہی غنڈوں اور ناہم چھوٹے چھوٹے بچوں کے گروہ در گروہ بازاروں کا چکر کاٹنے لگے اور اگر کسی غریب خوانچہ فروش نے غلطی سے یا پھر اپنے بچوں کی بھوک اور افلاس سے تنگ آکر کوئی شے فروخت کرنا چاہی تو اِن غنڈوں نے اس غریب کی ساری پونجی کولوٹ لیا اور جو کسی کے ہاتھ لگالے کر چلتا بنا۔اسی پر اکتفا نہیں بلکہ سارا دن یہ لوگ بازاروں اور گلیوں میں چھوٹے چھوٹے جلوسوں کی شکل میں آوارہ گردی کرتے رہے اور مرزائیوں کے خلاف نہایت اشتعال انگیز نعرے لگاتے رہے یہاں تک کہ مسجد احمدیہ کے دروازے پر جا کہ ان لوگوں نے نہایت تهدید آمیز الفاظ استعمال کئے اور مسجد کے صحن میں گندگی تک پھینکنے سے گریز نہ کیا۔شام کے تین بجے ایک جلوس عام کا اعلان کیا گیا تھا مگر جناب سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کی بر وقت مداخلت اور پچک غم میں ایک مرزائی کے قتل نے جلوس نکالنے کی جرات نہ ہونے دی۔اسی دن شام کونگری سے سپیشل پولیس فورس منگوائی گئی اور شہر کے تمام اہم ناکوں پر پولیس کی چوکیاں بیٹھا دی گئیں سلام اس رپورٹ میں جس شہید احمدیت کی طرف اشارہ ماسٹر غلام محمد صاحب کا واقعہ شہادت کیا گیا ہے وہ ماسٹر غلام محمد صاحب تھے جو چک شہر میں دیہاتی سکول کے ٹیچر تھے اور قسیم ملک سے قبل جماعت احمد یہ تھیلیاں ضلع ہوشیار پور میں سیکرٹری مال تھے ہے رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۹۵ م میں آپ کے واقعہ شہادت کے حالات میں لکھا له الفضل ار اكتوبر الدمن الفضل اما کتوبرت انه من *