تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 154 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 154

۱۵۰ ہفتہ عشرہ کے عرصہ تک بعض ناعاقبت از پیش اور خود غرض لیڈروں کی غلط لیڈرشپ کی بناء پر ایک طوفان بدتمیزی بر پا رہا۔اور احراری غنڈوں نے اسلام کے نام پر اخلاق سوزن نہیں نہیں۔بلکہ اسلام سوز حرکات کا ارتکاب کیا مگر ان کے تعلق کچھ تحریر کرنے سے قبل میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نہ مرزائی ہوں اور نہ ہی مرزائیت سے مجھے کوئی لگاؤ ہے بلکہ ایک حقیقت نگار کی حیثیت سے جو کچھ میری ان آنکھوں نے اس غنڈہ گردی کے دوران میں دیکھا ئیں بقول کسے قلم کی عصمت و ان میں کی عصمت سے کم بجھتے ہوئے اس کا تفصیلی جائزہ لوں گا یا ان ابتدائی الفاظ کے بعد لکھا :- " یکم اکتوبر حقیقت یہ ہے کہ اکتوبر کی ٹیم کو جبکہ چند مرزائی مبلغ اوکاڑہ سے دو اڑھائی میل دور واقع ایک دیہہ چک ، میں بغرض تبلیغ روانہ ہوئے تو شہر سے ۲۰، ۲۵ غنڈے ان کے پیچھے ہو لئے اور وہاں ان کی تمام مساعی کوناکام بناتے رہے اور واپسی پر راستہ میں کوٹ نہال سنگھ کے قریب ان بیچاروں کے منہ سیاہ کر کے ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے شہر کی طرف لے آئے جہاں کمیشن کے قریب شہر کے امن کو خاک میں ملانے والے بعض دیگر افراد نے بھی مرزائیت مردہ باد اور مرزائے قادیان مردہ باد و دیگر اسی قسم کے متک آمیز نعرے لگائے اور مرزائی مبلغین پر پتھراؤ کیا۔اس شور و غوغا کو شنکر پولیس وہاں پہنچ گئی اور مرزائی مبلغین کو اپنی حفاظت میں لے لیا مگر جب پولیس کے تانگہ پر غنڈہ عصر نے حملہ کر دیا تومجبوراً پولیس نے آٹھ نو حملہ آوروں کو زیر دفعہ 1 گرفتار کر لیا۔ان گرفتاریوں کے فوراً ہی بعد شہر میں زبر دستی پڑتال کروادی گئی مگر حقایم بالا نے نہایت ہوشمندی اور ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے گرفتار شدگان کو رہ کر دیا اور اس طرح شہر میں فرقد اریت کی سلگتی ہوئی آگ کو کسی حد تک ٹھنڈا کر دیا۔۲ اکتوبر :- یہ دوسرادن بخیر و عافیت گزرگیا اور اگرچہ اس دن بظاہر امن رہا اور کسی قسم کا کوئی ناگوار واقعہ پیش نہ آیا مگر اس حقیقت کو کسی صورت جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ کشیدگی اور کھچاؤ اس دن بھی کسی حد تک پایا جاتا تھا۔۱۳ اکتوبر : ۳ اکتوبر کا دن بھی ۲ بجے تک امن وامان کے ساتھ گذر گیا مگر ۲ بجے کے قریب