تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 149
۱۴۵ سال سے اشاعت اسلام کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔ہمارے مشن اس وقت تمام عیسائی ممالک مثلاً امریکہ ، انگلستان، فرانس ، ہالینڈ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور بہت سے مغربی افریقہ کے ممالک میں ہیں اور اس وقت ایک عیسائیوں میں سے تقریبا تیس ہزار افراد مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں۔ان نومسلموں میں سے بعض نے اپنی زندگیاں اسلام کے لئے وقف کر دی ہیں۔امریکہ کے ایک نومسلم اور جرمنی کے ایک نو مسلم اس وقت پاکستان میں اسلامی تعلیم کا اس نظریہ سے مطالعہ کر رہے ہیں کہ حصول علم سے فراغت کے بعد اپنے اپنے ملک میں تبلیغ اسلام کے فرائض سر انجام دیں۔نومسلموں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انشاء اللہ چند سالوں میں بسلسلہ عروج تک پہنچ جائے گا۔مادیات کا یہ زمانہ ہم سے حقیقت فراموش نہیں کر سکتا کہ جب کبھی بھی ظاہری طاقت کا مقابلہ سچائی سے پڑا ہے سچائی ہی ہمیشہ غالب رہی ہے۔مجھے کئی مغربی سیاستدانوں سے گذشتہ دو سالوں میں ملنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اُن کو یہ ہن نشین کرانے کی کوشش کی ہے کہ جہاں کہیں بھی کمیونزم کا مقابلہ مغربی تمدن سے ہوا ہے تو کمیونزم میں میں سے نو جگہ کامیاب ہوئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ غربی ممالک قوت بازو سے کامیابی حاصل کرنا چاہتے بین بر خلاف کمیونزم کے کہ وہ مزعومہ اصول کو پیش کرتے ہیں۔اسی وجہ سے مغربی اقوام کے ساز و سامان طاقتیں انحطاط پر ہیں مگر روس روز افزوں ترقی پر ہے۔ا مغربی اقوام جب تک اپنی صیحت پر عمل پیرا نہ ہوں گی ان کا قدم تنزل کی طرف جاتا رہے گا۔مسلمانوں کا بھی یہی حشر ہو گا اگر انہوں نے اسلام اور اس کے زرین اصولوں کی اشاعت کا کام غیر یکم ممالک میں اپنے ہاتھوں میں فوری طور پر نہ لیا کیونکہ ان کا مستقبل اسی سے وابستہ ہے۔وہ جو اس کار خیر میں حصہ نہیں لے سکتے ان کے راستہ میں تو روک نہ نہیں جو اس کام کو کر سکتے ہیں اور کر رہے اه ہیں۔یاد پنجاب میں احرار اور اُن کے بہ بنو علماء اہ مسلم لیگی حکومت کا معاندانہ رویہ سے جو آگ احمدیوں کے خلاف بھڑکا رہے تھے اور حضرت مصلح موعود کی راہ نمائی دو شکار ہیں اور بھی شدت اختیار کر گئی مٹی کو مسلم لیگی حکومت کے بعض افسروں نے بھی مخالفین پاکستان سے گٹھ جوڑ کر کے درپردہ ایک مخالفانہ له الفضل مرا خار هر ۲ اکتوبرنده ها، مت به