تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 148 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 148

سیم میرا اگر عیسائی تمدن کی چیخ و پکار کو ایک سیاسی تحریک قرار دیا جا سکتا ہے نہ کہ صلیبی جنگ۔اور جس کا مدعا اور مقصد یہ قرار دیا جاتا ہے کہ نا انصافیوں اور تفوق تلفیوں کو دور کیا جائے تو پیپر بان اسلامک تحریک کو کیوں ایک مذہبی جہاد سمجھا جاتا ہے اور اسے بھی کیوں ایک سیاسی بعد و جہد نہیں تصور کیا جاتا ؟ راس سوال کے علمی پہلو کی طرف نہیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔مختلف اسلامی ممالک کا وجود یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر ملک اپنے اپنے فوائد اور جد اجرا خواہشات رکھتا ہے پس جب تک ہر اسلامی ملک مختلف نام سے پکارا جائے گا تب تک ان کے فوائد بھی جدا جدا ر ہیں گے۔اگر تمام اسلامی ممالک سیاسی معاشرتی، تمدنی اور اقتصادی لحاظ سے ایک مرکز پر جمع ہو جائیں تو اس وقت مختلف دوستوں کی ضرورت باقی نہ یہ ہے گی۔اسلامی ممالک مثلاً پاکستان، افغانستان ، ایران ، سیر یا سعودی عرب ، عراق مهر اور انڈونیشیا با وجود وسعت آبادی کے لحاظ سے چھوٹے ہونے اور اپنی اپنی خود مختارانہ سلطنت رکھنے کے اس امر کے اقراری ہیں کہ وہ اس نقطہ پر تاحال نہیں پہنچے کہ جہاں پر سب کا کامل اتحاد ہو سکے۔ان حالات میں اتحاد بھی حاصل ہو سکتا ہے کہ ہر ایک سب کی خاطر قربانی کر سکے۔ہمیں اس معاملہ میں آہستہ آہستہ مگر احتیاط سے قدم اٹھانا چاہیے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے عزم بالجرام سے کام لینا چاہیئے۔اگر ہم ایسا کریں گے تو وہ دن دور نہیں کہ جیب اسلامی تمدن ایک صلیت ہوگی جو ہر سلمان کے اندر ایک ایسا جوش و خروش پیدا کر دے گی جو عیسائی تمدن کے نعرے کے پیدا کر وہ جوش سے بہت زیادہ ہو گا۔پہلا قدم جو ہمیں اس بارے میں اٹھانا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو پان اسلانگ کے حامی اور پکے مسلمان کہنا نے سے ہرگز نہ ڈرنا چاہیئے۔سیاسی دنیا میں اپنے حقوق حاصل کرنے کی سعی کر نا ہمارا پیدائشی حق ہے اور اس کو ہرگز مذہبی جنون نہیں کہا جا سکتا یه چیزو نانہ حالت تب ہی پیدا ہو سکتی ہے کہ جب کہ دنیا میں انعات اور حسین معاملگی کا خاتمہ ہو چکا ہوتا ہے۔ہر ہاتھ وہ بہروں کے حق غصب کرنے میں کوشاں ہوتا ہے۔دو سرا قدم یہ اٹھانا چاہیئے کہ ہم ان خیالات کو مسلم اور غیرمسلم ممالک میں کثرت سے پھیلائیں تاکہ مسلمان پور کے طور پر اس زمانے کی ضروریات کو مجھ سکیں اور غیرمسلم مسلمانوں کی جائز خواہشات کا صحیح اندازہ لگاسکیں۔اس کے پہلو بہ پلو اسلامی تعلیمات کی اشاعت غیرمسلم ممالک اور غیرمسلموں میں از بین ضروری ہے جیسا کہ آپ لوگوں کو علم ہے کہ احمدیہ جماعت جس کے امام ہونے کا مجھے فخر حاصل ہے گذشت ہی چائیں