تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 125 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 125

کے لئے آگے بڑھیں گے تو ہم ان سے کہ سکیں گے کہ پاکستان میں ہم کو دینی جہاد کا موقع تو نہیں ملا لیکن ہماری دنیوی حکومت پر یا ہمارے ملک اور ہماری قوم پر جب حملہ ہوا تو ہم نے اس کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا ہے۔یہ خونہ ہے جس سے وہ سبق سیکھیں گے اور اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے یہ لے چونکہ دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں تبلیغ اسلام کیلئے بری لٹریچر تیارکرنیکی تحریک عریات میں تحریک احمدیت کا اثر و نفوذ تیزری سے بڑھ رہا تھا اس لئے حضرت امیر المومنین اصلح الموعود خلیفہ اسیح الثانی نے اسی مجلس شوری نہیں نئی ضروریات اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جدید لٹریچر تیار کرنے کے لئے ایک مفصل حکیم جماعت کے سامنے رکھی جو یہ تھی۔فرمایا :- ہمارا سلسلہ اس وقت مختلف ممالک میں پھیل رہا ہے اور لوگ ہم سے لٹریچر کا مطالبہ کرتے ہیں مگر ہمارے پاس کوئی لٹریچر ایسا نہیں ہوتا جو اُن کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہو۔ابتدائی زمانہ میں احمدیت صرف ہندوستان میں محدود تھی اور یہاں زیادہ تر ان مسائل کا چرچا تھا کہ حضرت میشی علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں ، اقبال کسے کہتے ہیں، یا جوج ماجوج سے کیا مراد ہے، آئیوائے مسیح اور مہدی کی علامات کیا ہیں، جہاد کا کیا مسئلہ ہے۔یہ اور اسی قسم کے دوسرے مسائل پر جماعت نے لٹریچر شائع کیا۔اس کے بعد احمدیت انگلستان میں پھیلی تو عیسائیوں کے مخصوص مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے انگریزی لٹریچر شائع کیا گیا لیکن اب ہماری جماعت ایسے ملکوں میں پھیل رہی ہے جن میں اردو تو نہیں بولی جاتی لیکن وہاں مسائل وہی ہیں جو ابتدائی زمانہ احمدیت میں ہمیں نہیں آئے یعنی دیبال سے کیا مراد ہے بیج نامرئی نے آنا ہے یا نہیں، جہاد کی کیا حقیقت ہے، ہیچ اور محمدی کی پیشگوئیاں کیس طرح پوری ہوئی ہیں۔ایسٹ افریقہ ، ویسٹ افریقہ ، انڈونیشیا، ماریشمی، مڈغاسکر اور عرب ممالک میں میں مسائل پوچھے جاتے ہیں۔اور جب وہ ہم سے کہتے ہیں کہ لاؤ اپنا ٹر پر توہم ان کے سامنے اپنا لٹریچر پیش کر دیتے ہیں جن میں ان مسائل کا تفصیلی طور پر کوئی ذکر نہیں ہوتا۔پس جہاں ہمیں تجدید لٹریچر کی ضرورت ہے وہاں ہم نے اپنے پرانے لٹریچر کو کہیں عربی زبان میں بدلنا ہے، کہیں سه رپورٹ مجلس مشاورت ۱۳۲۹ ص۳ ۶۱۹۵۰