تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 124
١٣٣ کہا کہ تم صرف اتنا بتاؤ کہ ہم نے کرنا کیا ہے ؟ اس نے کہا فلاں قلعہ پر قبضہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا لیس اتنی بات تھی تم نے خواہ مخواہ ہمارا اتنا وقت ضائع کیا۔اس کے بعد وہ سیدھے اس قلعہ کی طرف چل پڑے اپندرہ میں گر گئے تھے کہ دشمن کو علم ہوگیا اور اس نے فائرنگ شروع کر دی۔ان کے چالیں پچاس آدمی وہیں ڈھیر ہو گئے۔اس پر انہوں نے ان لاشوں کی اوٹ میں آگے بڑھنا شروع کر دیا پھر کچھ مرے تو انہوں نے ان کی لاشوں کو آگے رکھ لیا اس طرح وہ اپنی لاشوں کو پناہ بناتے ہوئے ہی آگے بڑھتے چلے گئے اور جس قلعہ کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ چھ مہینے تک فتح نہیں ہوسکتا اس قلعہ پر شام کے وقت ہمارا جھنڈا لہرا رہا تھا۔اس کرنل نے بتایا کہ وہ اتنی دلیری سے آگے بڑھے کہ ہمیں دیکھ کر حیرت آتی تھی ہم ان سے کہتے کہ دشمن سے چھپو اور وہ ناچنے لگ جاتے اور کہتے کہ ہم تو حلہ سے پہلے نا چا کرتے ہیں۔یہ دنیوی چیزیں ہیں جو ایمان کے نہ ہوتے ہوئے بھی مختلف قوموں میں پائی جاتی ہیں۔اگر یہ پہلی چیزیں ہی ہمارے اندر نہیں پائی جاتیں تو اگلی خوبیاں ہم میں کہاں ہو سکتی ہیں حقیقت یہ ہے کہ دنیا دار لوگ جتنی قربانیاں کرتے ہیں وہ ایک چھوٹا پیمانہ ہوتا ہے جس کو دیکھتے ہوئے مومن اپنی آئندہ ترقی کی عمارت تیار کرتا ہے۔اگر نئی عمارت بنانے کی بجائے ہم اس پیمانہ کی قربانیاں بھی نہ کریں جس پیمانہ کی قربانیاں عام دنیا دار لوگ کیا کرتے ہیں تو ہم سے زیادہ اپنے دعووں میں جھوٹا اور کون ہوسکتا ہے۔پس آپ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ اب یہ فضلت زیادہ دیر تک برداشت نہیں کی جاسکتی۔دنیا میں کبھی بھی مذہب نے قربانی کے رستوں کے بغیر ترقی نہیں کی۔قرآن کریم میں اللہ تعالی صاف طور پر فرماتا ہے کہ کیاتم یہ سمجھتے ہوکہ تم کو وہ تکلیفیں نہیں پہنچیں گی جو پہلے لوگوں کو پہنچی ہیں۔اگر تم ایسا خیال کرتے ہو تو یہ تمہاری غلطی ہے۔اب دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں یا توتم یہ جھو کہ قرآن لعوذ باللہ جھوٹا ہے اس نے یوں ہی ایک گپ ہانک دی ہے اور یا تم یہ مجھو کہ احمدیت جھوٹی ہے اس نے ترقی ہی نہیں کرنی پھر اس کے لئے جان کی قربانی کی کیا ضرورت ہے۔اور اگر قرآن نے جو کچھ کہا وہ سچ ہے اور اگر احمدیت بھی سچی ہے تو لا ز ما اپنے ملک کی عزت کی حفاظت کے لئے اس وقت جو موقع پیدا ہوا ہے اس میں تمہیں حصہ لینا پڑے گا کیونکہ یہ تغیر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے لئے پیدا کیا ہے ہم نہیں جانتے کہ اسلام کی آئندہ ترقی کے لئے زیادہ قربانیاں ہم کو ہندوستان میں دینی ہوں گی یا افریقہ میں لیکن فرض کردو فریقہ میں پیش آتی ہیں تو وہاں کے احمدی ہمارا نمونہ دیکھیں گے اگر ہم اس وقت اپنی جانوں کو قربان کرنے