تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 123 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 123

۱۲۲ خطرناک بات ہے۔ہم تو انگریزوں کے زمانہ میں بھی یہ کہا کرتے تھے کہ غلامی اور چیز ہے اور اطاعت اور چیز جب گاندھی کہتا کہ ہم کب تک انگریزوں کے غلام رہیں گے تو یکی ہمیشہ اس کے جواب میں یہ کہا کرتا تا کہ میں تو انگریز وں کا غلام نہیں میری منیر خدا تعالیٰ کے فضل سے اب بھی آزاد ہے اور اگر مجھے جائز رنگ میں ان کا مقابلہ کرنا پڑے تو میں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔فرض غلامی کے غلط اور گند سے احساسات اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے اندر نہیں تھے لیکن دوسرے لوگ اگر ان ہی احساسات کو اب بھی لئے چلے جائیں اور یہ نہ سمجھیں کہ آئندہ ان پر کیا ذمہ داری آنے والی ہے تو یہ بالکل تباہی والی بات ہوگی۔بہر حال جماعت کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اب ان باتوں کو قطعی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا“ نیز فرمایا :- تمہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ اب تمہاری وطنی حکومت ہے اور وطنی حکومت اور غیر حکومت میں بڑا بھاری فرق ہوتا ہے۔ہمارے اصول کے مطابق تو غیر حکومت جو امن دے رہی ہو اس کی مددکرنا بھی ضروری ہوتا ہے اور وطنی حکومت کی مدد کرنا تو اس حدیث کے ماتحت آتا ہے کہ " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِه وَعِرْضِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ، جو شخص اپنے مال اور اپنی عزت کا بچاؤ کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہوتا ہے۔یہ شہادت چاہیے اتنی شاندار نہ ہو جتنی دینی جہاد میں جان دینے والے کی شہادت ہوتی ہے لیکن بہر حال یہ ایک رنگ کی شہادت ضرور ہے اور انسان جتنا بھی ثواب حاصل کر سکے اس کے ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے ہیں ایک کرنل نے شنایا کہ کشمیر میں ایک بڑا سخت مورچہ تھا، مہاراجہ کشمیر کا اس کے متعلق یہ اعلان تھا کہ یہ مورچہ چھ مہینے تک فتح نہیں ہوسکتا۔یہ ان کی ایک خاندانی جگہ تھی جسے انہوں نے بڑا مضبوط بنایا ہوا تھا۔اس نے بتایا کہ ہمیں حکم ہوا کہ پٹھانوں کو آگے بھیجو۔اس وقت کابل کی طرف سے پاوندے آئے ہوئے تھے فوجی افسر نے انہیں اپنے ساتھ لیا اور نقشوں سے بتانا شروع کیا کہ فلاں سنگر سے رستہ گذرتا ہے فلاں جگہ نالہ ہے، فلاں رستہ بڑا خطرناک ہے کیونکہ وہاں دشمن نے مائنز بچھائی ہوئی ہیں پہلے اس طرف سے جانا پھر پہاڑی کے اس طرف پہلے جانا پھر اس نالے کو عبور کرنا۔وہ گھر ائیں کہ یہ اپنی بات کو ختم کیوں نہیں کرتا اور یہ بتاتا کیوں نہیں کہ ہم نے کرنا کیا ہے۔جب وہ بات کر چکا تو انہوں نے