تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 119 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 119

۱۱۸ انجین احمدیہ کا بجٹ ممبران مجلس تحریک تجدید با ہمی مشورہ سے بنا لیتے تھے اور پھر حضور سے منظوری لے لیتے تھے مگر اس مشاورت پر حضور نے اس فیصلہ کا اعلان فرمایا کہ آئندہ تحریک جدید کا بجٹ بھی مجنس شوری میں پیشیں ہوا کرے۔قیام پاکستان کی جدو جہد میں بھر کوپر حصہ فاع وطن کی تیاری میں حصہ لینے کی پر زور تحریک لینے کے باعث جماعت احمدیہ پاکستان پر یہ دوہری ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ دوسرے محب وطن پاکستانی شہریوں سے بڑھ کر اس نوزائیدہ مملکت کے استحکام میں کوشاں رہے اور اس کے دفاع اور تحفظ کی خاطر فوجی ٹریننگ سیکھے تا جب اسلام، پاکستان اور ملت، اسلامیہ کے لئے جانی قربانیاں پیش کرنے کا موقع آئے تو جماعت احمدیہ کے مجاہد صف اول میں کھڑے ہو کر مثالی نمونہ قائم کرسکیں۔اسی پاک مقصد کے پیش نظر فرقان بٹالین کا قیام عمل میں لایا جا چکا تھا اور حضرت مصلح موعود کی ہدایت پر بہت سے احمدی نوجوان محافظ کشمیر پر شاندار خدمات، انجام دے رہے تھے مگر ایک طبقہ مجرمانہ غفلت اور کوتاہی کا ثبوت دے رہا تھا جس پر حضرت امیر المؤمنین نے مشاورت ه۱۳۲۹ میں انتہائی خفگی کا اظہار کیا اور جماعت کو آزادی ملک کے نتیجہ میں عائد ہونے والے قومی اور ملکی فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بتایا :- قادیان میں رہتے ہوئے ہمارے لئے ایک مشکل تھی ورنہ ان دنوں بھی ہم یہی پسند کرتے کہ دشمن سے لڑ کر مر جائیں اور وہ مشکل یہ تھی کہ ہمیں حکومت سے لڑنا پڑتا تھا اور حکومت سے لڑنا ہمارے مذہب میں جائز نہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ قادیان سے ہمارا پیچھے ہٹنا حرام اور قطعی حرام ہوتا اگر حکومت سے مقابلہ نہ ہوتا۔مگر چونکہ خدا کا حکم تھا کہ حکومت سے نہیں لڑنا اس لئے ہم پیچھے ہٹ گئے جیسے منہ میں رہتے ہوئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے لئے دشمن سے جنگ کرنا جائز نہیں تھا مگر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے تو لڑائی آپ کے لئے جائز ہو گئی۔غرض ، اب حالات بالکل مختلف ہیں اب اگر پاکستان سے کسی ملک کی لڑائی ہو گئی تو حکومت کے ساتھ ہو کہ ہمیں لڑنا پڑے گا اور حکومت کی تائید میں ہمیں جنگ کرنی پڑے گی اس لئے اب پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی نہیں لے + ه ریپورت مشاورت ۱۳۲۹ ص ۱۲