تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 120 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 120

119 حضور نے یہ بنیادی نکتہ ذہن نشین کرانے کے بعد بڑے موثر پیرایہ میں تحریک فرمائی کہ احمدیوں کو ملکی قانون کے تحت فوجی ٹریننگ کے ہر ممکن موقع سے کما حقہ فائدہ اُٹھانا چاہیے اور مجھے لینا چاہیے کہ جہاد اور جنگ کی تیاری تو چندہ سے بہت زیادہ اہم ہے۔جیسے نماز فرض ہے اسی طرح دین کی خاطر ضرورت پیش آنے پر لڑائی کرنا بھی فرض ہے لیے چنانچہ فرمایا : " جن امور کو اسلام نے ایمان کا اہم ترین حصہ قرار دیا ہے ان میں سے ایک جہاد بھی ہے بلکہ یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص جہاد کے موقع پر پیٹھ دکھاتا ہے وہ جہنمی ہو جاتا ہے اور جہا د میں کوئی شخص حصہ ہی کس طرح لے سکتا ہے جب تک وہ فوجی فنون کو سیکھنے کے لئے نہیں جاتا کشمیر کی جنگ کا شروع ہونا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اہم موقع تھا جس سے ہماری جماعت بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتی تھی بلکہ اب بھی اُٹھا سکتی ہے لیکن اگر کشمیر کی جنگ نہ ہوتی تب بھی ہماری جماعت کا فرض تھا کہ وہ فوجی فنون کو سیکھنے کے لئے اپنے نو جوانوں کو پیش کرتی تاکہ اگر براہ راست پاکستان پر ہی حملہ ہو جاتا تو وہ اپنی قوم اور اپنے ملک کی حفاظت کا کام سر انجام دے سکتی۔ظاہر ہے کہ جو نوگ فوجی خدمت سے جی چراتے ہیں اس وجہ سے جی چراتے ہیں کہ ان کی اس کام سے جان نکلتی ہے حالانکہ دنیا میں جب بھی کوئی قیمتی چیز کسی کو ملے گی لوگ اسے اس سے چھینے کی کوشش کریں گے حضرت عیسی علیہ السلام ساری عمر یہ کہتے رہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو لیکن دشمنون نے اس شخص کی قوم پر بھی تلوار سپلائی اور خود حفاظتی پر مجبور کر دیا۔اسلام کتنا صلح کی مذہب ہے مگر مسلمانوں کو حکومت ملی تو ان کے ملک کو تباہ کرنے کے لئے چاروں طرف سے دشمن کود پڑے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت اس قدر استوار تھی کہ گولڑائی میں سب سے زیادہ بہادر آپ سمجھے جاتے تھے مگر آپ دشمن کو اپنے ہاتھ سے مارتے نہیں تھے صرف لوگوں کو ہدائتیں دیتے تھے کہ اس اس طرح لڑائی کرو گویا آپ کا دل نہیں چاہتا تھا کہ لڑائی کریں لیکن چونکہ دشمن نے آپ کو لڑنے پر مجبور کر دیا اس لئے آپ کو بھی اس کے مقابلہ میں نکلنا پڑا۔صرف ایک دفعہ ایک دشمن نے اصرار کیا کہ آپ اس سے لڑائی کریں اور آپ اس کے مجبور کرنے پر اس کے مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے مگر بعض دفعہ ایمان کے ساتھ محبت مل کر ایک عجیب مضحکہ خیز مثال پیدا کر دیتی ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی رپورٹ مشاورت ه۱۳۳۲۳۹ ص۱۳۔