تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 97
۹۶ با و شهادت را اپریل میں ریو منتقل کردیا گیا سلسلہ احمدیہ کا یہ پہلا مرکزی تعلیمی ادارہ تھا جو دار الحجرت میں قائم ہوائی صلح (جنوری) کو بیگم سلم تصدق حسین حضرت امیرالمومنین کی مسلمانان عالم کونصیحت نے نئے مفتی فلسطین کے ذاتی نمائندہ اشیخ عبداللہ غوثیہ اور سید سلیم الحسینی کے اعزاز میں ایک دعوت کا انتظام کیا تھا جس میں حضور نے صحیحت فرمائی کہ اگر ہم فی الحقیقت کا میاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر کام سوچ سمجھ کر اور ایک خاص سکیم کے ماتحت کرنا چاہئے۔سے ۱۹ با مسلح پر جنوری کو رتن باغ لاہور جو من أوسلم کو حضرت مصلح موعود کا خصوصی ارشاد کارایی میں جرمن تو مسلم پر عبد الشکور کے اعزاز میں ایک دعوت دی گئی جس میں اکا بر جماعت کے علاوہ مغربی پنجاب کے اعلیٰ احکام، پولیس اور فوج کے اعلی افسر پروفیسر، سکالرز، موقر جریدہ نگار کے علاوہ متعدد با اثر شخصیتوں نے شرکت کی جن میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر مسٹر جعفری سابق ڈپٹی کمشنر لاہور مسٹر ظفرالاحسن بیگم سلم تصدق حسین تھنا ایم ایل اے چوہدری نصر اللہ خان صاحب ایم۔ایل۔اسے اور جناب علاؤ الدین صاحب صدیقی کے اسماء خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔سیدنا حضرت مصلح موعود نے اِس تقریب سعید پہ ایک نہایت روح پر ور تقریر کی تیس کی ابتداء میں فرمایا کہ میرے آقا و مولا کے ارشاد کے مطابق اسلام اور اس کے پیچھے متبع ہی کونے کے پتھر میں وہ جس پر بھی کریں گے ایسے پاش پاش کر دیں گے اور جو اُن پر گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا ہر کنز سے اس سے پہلے جس نہ ہوا سے وابستہ تھے اُس میں بشریت کو لعنت قرار دیا گیا تھا لیکن اسلام شریعت کو برکات خداوندی سے معمور گردانتا ہے۔لو دائیں سر عابد کویر باه رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان بابت ۳-۱۳۲۹ پیش را ۵-۱۹۵۰ ۲۰۰۰ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تا ریخ لجنہ اماءاللہ حصہ دوم صفحہ ۱۲۴ - ۱۲۶ راز حضرت رسیده ام امنین تمامی حرم سید نا حضرت مصلح موعود یعنی اللہ تعالیٰ عنہ ) با له الفضل من صلح ٣٢ صلا