تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 98 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 98

کو نصیحت کروں گا کہ وہ جو اب اپنے تمام اعزہ و اقرباء کو چھوڑ کر خدا کے دامن سے وابستہ ہو گئے ہیں شریعیت کو اپنی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی کرنے کی کوشش کریں۔اور میں طرح وہ پہلے ہر سٹور کے سپاہی تھے آج میرے آقا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے جاں نثار سپا ہی نہیں کہ خدا ان کے ہاتھ پرفتوحات کی بارشیں کمر سے اور پیدائشی مسلمانوں سے کہ میں بڑھ چڑھ کر ایمان و اعتقاد پیدا کرنے کی کوشش کریں راہ سے حضرت مصلح موعود اخبار والیوں کے قافلیمیت میان کشمیری اور بین هشت فروردی 1479 امر کو سید نا حضرت فضل عمر الصلح الموعود فرقان فورس کے مجاہدوں کا جائزہ لینے کے لئے بھمبر سے ہوتے ہوئے محاذ کشمیر پر تشریف لے گئے۔اس سفر میں بند رہی۔ذیل جسمانیوں کو حضور کی بابرکت معیت کا مبارک اور زرین موقع بیشتر آیا :- ا - ثاقب صاحب زیدوی ( نامہ نگار خصوصی الفضل لاہور) ۲ - میاں محمد شفیع صاحب (چیف رپورٹر روزنامہ پاکستان ٹائر ، لاہور) سردار نسلی صاحب ( بیت رپور ٹر روزه نامه " احسان لاہور ) پرانا محمد مرور صاحب زادیہ آفاق، لاہور سنور یہ روایتہ جیپ کا رتبہ بھمبر سے ہوتے ہوئے نوشہرہ کے جنوب میں نکیسر کے اس مشہور قلعے کے قریب پہنچے جس کی پیشانی پر احمد شاہ ابدالی کی سطوت و شوکت کا نشان عیاں تھا اور میں کی تحکم، دیوارون سے مکرا کر پیش کی ڈور ارنونوں کے کولوں کو بیسیوں ہی نہیں سینکڑوں بارشتہ کی کھانا پڑی تھی اور مین کے قرب وجوار میں شہدا کے فضل سے احمدیت کے شہر دل اور جان نثار نوجوان اپنی جان تھیلی پر رکھتے ہوئے ان مقدم بر زبان کے چہ چہ کی پاک بانی اور تھا نفت کر رہے تھے۔سے د استمرت مصلح موعود کو اس مبارک سفر کے دورا وہ محاذ پر ایک واقعہ نے یکا یک قا: یان کی شد الفضل به صلح هر ۲ دست به سے کمرے صاحب کیا ہی بد قسمت انسان نہیں کہ انہوں نے نصیحت ہمیں خلیفہ وجود کی زبان مبارک سے نہیں، اور بجائے ، ا ق و اخلاص میں قدم آگے بڑھانے کے اسلام ہی سے پورٹ، گئے ہیں ملی افضل بار امان ۲۰۱۳۲۲ :