تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 77 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 77

صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب اس سال کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ رامان) مادری ) کو حضرت امیر المومنين المصلح الموعود کے فرزند صاحبزادہ مرزا وسیم احمد کی درویشانہ زندگی کا آغاز صاحب کی درویش نہ زندگی کا آغاز ہوا۔آپ اس روز پے نہ بیچھے شام پاکستان سے چودہ اصحاب کے ساتھ قادیان پہنچے بالے مساجد قادیان کی حفاظت کیلئے قادیان کے بیرونی محلہ جات کی وہ مسجدیں جو آنحضرت صلے اللہ صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے عاشقوں اور مخلص فدائیوں تا قابل فراموش مساعی کی سجدہ گاہ تھیں اور ہمیشہ ہی اُن کے نالہ ائے شب سے معمور اور اُن کے آنسوؤں سے تر بتر رہتی تھیں ہے پر پیش کے دوران چشم زدن میں خالی ہوگئیں۔قادیان میں احمدی مسلمانوں کی انہیں اور دوسرے مسلمانوں کی چار مسجدیں تھیں۔علاوہ ازیں پرانی عیب درگاہ اور سات قبرستان تھے۔ان سب کی دیکھ بھال اور تحفظ کو درویشوں نے ابتدائی دور ہی سے اپنی زندگی کے بنیادی مقاصد میں شامل کر لیا۔اس ضمن میں ماہ نبوت / نومبر رامش میں مولوی برکات احمد صاحب ہی۔اسے ، ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے ، فضل الہی خاں صاحب اور پندرہ بیس درویش پہلی بار قادیان کی بیرونی مساجد کی حالت دیکھنے اور صفائی کرنے کے لئے گئے۔چنانچہ انہوں نے مسجد دارد افضل صاف کی اور اس کا غسلخانہ اینٹوں سے بند کر دیا۔مسجد نور کی چند کنگر یاں تازہ ہی شکستہ ہوئی تھیں۔مسجد دار الیسر کی دیوار اپلوں سے آئی ہوئی تھی جو درویشوں نے صاف کر دی۔پھر انہوں نے مسجد وارد الرحمت کی صفائی کی اور مسجد دار الفضل کی ٹوٹی ہوئی کھٹر کی بند کر دی۔دوسری بار هر ماہ شہادت / اپریل پیش کو حضرت مولوی عبدا بر من صاحب امیر جماعت قادیان ملک صلاح الدین صاحب ایم اے ، معان فضل الہی خان صاحب ، مرزا محمد حیات صاحب نگران مقامی در ویشان قادیان اور بعض درویشوں پر مشتمل ایک وفد نے مقامی تھانیدار صاحب سے دار الفتوح تک جانے اور اس کا جائزہ لینے کی منظوری لی اور اگلے روز ۲۱-۲۲ درویش سپاہیوں کی معیت میں کرالیں پہنچے ، جھاڑو ، بالٹیاں اور کڑاہیاں لئے وہان پہنچے۔اور نہ بجے سے ۱۳ بیجھے مسجد کو خلافت سے صاحت کرتے رہے۔اور اس کی کھڑکیاں اور درواز سے اینٹ گارے سے بند کر دیئے۔ے ریکارڈ کاریان شهر مرتبه مرزا محمد حیات صاحبه سابق درویش قادیان (غیر مطبوعه)