تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 75
6 صاحب اور ان کے رفقاء کے خاص طور پر ممنون ہیں۔ساڑھے بارہ بجے دوپہر کو وقار عمل سے فراغت ہوتی اور آدھ گھنٹہ آرام کے بعد نماز ادا کرنے کے بعد قرآن مجید کا درس دیا جاتا ہے اور بعض ناخواندہ درویشوں کو نماز کا ترجمہ بھی سکھایا جاتا ہے۔اسی طرح باقی نمازیں عصر، مغرب و عشاء اپنے اپنے وقتوں پر باجماعت ادا کی جاتی ہیں اور فارغ اوقات سلسلہ کی کتب کے مطالعہ اور دعاؤں میں صرفت کئے جاتے ہیں۔ہفتہ میں دو دن (سوموار اور جمعرات ، تمام درویش روزہ رکھتے ہیں اور وقت کا بیشتر حصہ نو انسل اور دھاؤں میں گذارتے ہیں بعض ایسے درویش بھی ہیں جو کئی روز تک متواتر روزے رکھتے ہیں عضو ایلیا اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خاص دعاؤں اور توجہ کے اثر سے تمام درویشوں میں عبادت اور دعاؤں کے لئے ایک خاص شخت پیدا ہو چکا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عبادت اور ذکر انہی کا رنگ محض وقتی اور ہنگامی بوش پر مبنی نہیں بلکہ اپنے اندر کمل کی استواری اور قوت ارادی کی پختگی کے اجزاء لئے ہوئے ہیں۔جملہ درویش حضور کی نصیحتوں کے مطابق ملکی اور مسیح ناصری والی زندگی کا نمونہ دکھانے میں کوشاں ہیں اور مسلم برداشت کر کے ظلم کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس مختصر عرصہ میں اکٹھا رہنے کی وجہ سے درویشوں میں جذبہ اخوت و مودت بہت بڑھ گیا ہے۔باہمی ربط اور دوستانہ تعلقات کا اثر اس قدر وسیع ہے کہ اگر ایک دوست کا باہر سے خط موصول ہوتا ہے تو دوسرے درویش بھائی اس دوست کے عزیز و اقارب کی خیر و عافیت کے متعلق بڑے شوق سے استفسار کرتے ہیں جو احباب قادیان میں ڈھا کے لئے تحریر فرماتے ہیں۔ان کے متعلق مساجد میں اعلان کیا جاتا ہے۔اسی طرح بعض درویشوں کے عزیز و اقارب کی وفات پر یہاں نماز جنازہ غائب ادا کی جاتی ہے۔گذشتہ ایام میں درویشوں کے باہمی تعاون سے حقہ نوشی کے خلاف مہم بھاری کی گئی تھی جو بہت حد تک کامیاب رہی اور کئی درویش جو عرصہ سے حقہ نوشی کی مرض میں مبتلا تھے اس مرض سے نجات پا گئے۔اسی طرح ہمارے مکرم دوست ملک صلاح الدین مصلحب ایم۔اے نے وصیت کی تحریک کو بھاری کیا جس کے نتیجہ میں کئی ایک درویشوں نے منتیں کرائیں۔تحریک تجدید کے وعدوں میں درویشوں نے جس اخلاص اور قربانی کا ثبوت دیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔قادیان میں کوئی ایسا درویش نہیں رہا جس نے تحریک بدید کے چودھویں سال میں حصہ نہ