تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 74
ایک خاص دل کشی پیدا کرتی ہے۔اسی وقت مسجد مبارک اور مسجد ناصر آباد سے بھی اذان کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔چھ بکے نہر کی نماز کے بعد تینوں مساجد میں سلسلہ کی کتب کا درس دیا جاتا ہے جو احباب بڑے شوق سُنتے ہیں۔نماز و درس سے فارغ ہو کر درویش انفراد کی طور پر تلاوت قرآن مجید کرتے اور بہشتی مقبرہ میں دُعا کے لئے تشریف لے جاتے ہیں۔ہر جمعہ کے روز فجر کی نماز کے بعد بہشتی مقبرہ میں اجتماعی طور پر دعا کی جاتی ہے۔صبح آٹھ بجے احباب لنگر خانہ سے کھانا حاصل کرتے ہیں۔یہ کھانا نہایت سادہ دال روٹی پر مشتمل ہوتا ہے۔ہفتہ میں ایک دو دفعہ گوشت اور سبزی کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔کھانے سے فارغ ہو کر ساڑھے آٹھ بجے صبیح روزانہ وقار عمل کا پروگرام شروع ہوتا ہے۔یہ پروگرام محض ہیمی یا تفریحی کام نہیں ہے بلکہ ایک تعمیری اور تاریخی پروگرام ہے جس میں تمام درویشوں کی حاضری ضروری ہوتی ہے۔درویشوں کی لگاتار کوششوں اور مسلسل محنتوں سے ایسے کام سر انجام دیئے جا رہے ہیں جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے ایک لمبے عرصے تک تاریخی یادگار رہیں گے۔اور آنے والی نسلیں ان کے کاموں کو رشک کی نگاہوں سے دیکھیں گی اور ان کے لئے درد دل سے دعائیں کریں گی۔بہشتی مقبرہ کے ارد گرد قریباً پانچ فٹ چوڑی دیوانہ بنائی جارہی ہے۔اس کا نصف سے زائد حصہ مکمل ہو چکا ہے۔بہشتی مقبرہ میں پار پختہ کوارٹرز (دو منزلہ تیار کئے گئے جن میں دھوپ بارش اور رات کے وقت درویش آرام کر سکتے ہیں۔ان کوارٹروں کی تعمیر اگر عام حالات میں کی جاتی تو زمین کی قیمت کے علاوہ اس کام پر سات آٹھ ہزار روپیہ خرچ ہوتا اور شاید کافی عرصہ اس رقم کی بجٹ میں منظوری حاصل کرنے کے لئے گند بھاتا مگر آفرین ہے ان درویشوں پر جنہوں نے تمام کام اپنے ہاتھ سے سرانجام دیے کو بغیر کوئی رقم خرچ کئے اس شاندار خدمت کو بجالانے کی سعادت حاصل کی۔بہشتی مقبرہ ، مساعد اور گلی کوچوں کی صفائی کا کام اور لنگر خانہ کے لئے لکڑی وغیرہ کا انتظام بھی وقار کمل کا ایک حصہ ہے۔علاوہ ازیں بہشتی مقبرہ کے ارد گرد باغ سے ملحقہ زمین میں بل پھلا کر سبزیاں وغیرہ کاشت کرنے کا کام بھی وقار عمل میں شامل ہے۔وقار عمل کا کام خوش اسلوبی اور احسن طریق سے سر انجام دینے کے لئے ہم اپنے فاضل بھائی مولوی عبد الرحیم