تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 73
YA مرزا ظفر احمد صاحب بار ایٹ لاء اور صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب یہاں مقیم ہیں جملہ در وایستا پرانے قادیان کے ایک محدود مطلقہ میں آباد ہیں جو مسجد مبارک ، دار المسیح ، مسجد اقصی اور علاقہ بہشتی مقبرہ پرمشتمل ہے۔ان مقدس مقامات میں ٹھہرنے کا مقصد شعائر اللہ کو آباد رکھنا اور ان میں دعا اور عبادت سے روھانی فیض حاصل کرتا ہے۔اختر صبح کی نمود سے کچھ وقت پہلے قریباً ساڑھے تین پونے چار بجے شب ایک بزرگ درویش رمیاں مولا بخش صاحب یا در چی لنگر خانہ کی رقت بھری آواز اس محدود مطلقہ میں سنائی دیتی ہے، پُر سوز اور کچھ درد لہجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت امیر المومنین ایده الشر تعالی بنصرہ العزیز کے اشعار کانوں سے اتر کر دل و دماغ کی خوابیدہ حستوں کو بیدار کرنے کے لئے کافی ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر ملاحظہ ہوں :- یا الہی فضل کو اسلام پر اور خود بچا اس شکستہ ناؤ کے بندوں کی اب سن لے پکار رغبت دل سے ہو پابند نماز و روزه نظر انداز کوئی حصہ احکام نہ ہو خدمت دین کو اک فضل الہی جانو اس کے بدلہ میں کبھی طالب انعام نہ ہو چنا نچہ اس پیغام بیداری سے درویش اُٹھتے ہیں (اگرچہ متعدد درویش کافی عرصہ پہلے سے ہی عبادت و دعا میں مشغول ہوتے ہیں، اور با وضو ہو کر اپنے اپنے حلقہ کی مساجد میں ہائی است نماز تہ د ادا کرتے ہیں۔مسجد مبارک میں مکرم مولوی شریعت احمد صاحب امینی مولوی فاضل، مسجد اقصی میں جناب مولوی غلام احمد صاحب ارشد مولوی فاضل اور مسجد محلہ ناصر آبا دمیں حسن خواجہ محمد متیل صاحب امامت کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔قریباً پونے چھ بجے میاں سراج الدین صاحب مسجد اقصی کے پرانے خادم اور موذن نساز ایج سے اللہ اکبر کی آواز بلند کرتے ہیں جو قادیان کے سکوت کو توڑتی ہوئی فضاؤں میں 1