تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 68
۶۳ روز یہ مشہور کر دیا گیا کہ ننکانہ صاحب میں مقیم سارے سکھ موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے ہیں۔اس جھوٹی اور بالکل بے بنیاد افواہ نے شہر بھر میں ایک آگ سی لگادی اور غیظ و غضب کا ایک طوفانِ عظیم اہ پر آیا۔درویشوں کو قادیان سے نکال باہر کرنے کی درپردہ سازشیں زور پکڑ گئیں۔قبل ازیں فتنہ پرداز عناصر نے قادیان کے مجسٹریٹ اور ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کو میموریل بھی بھیجے کہ درویشوں کے گھروں سے ناجائز اسلحہ یہ آمد ہو رہا ہے لہذا ہمیں ان سے شدید خطرہ ہے۔جب ان لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس من گھڑت بات کے ذریعہ سے پبلک میں نفرت و حقارت کی چنگاری ڈالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو انہوں نے سوشل بائیکاٹ کا بھی اعلان کر دیا۔اس بائیکاٹ کو موثر اور کامیاب بنانے کے لئے عمر جنوری شائر کو گوردوارہ میں جلسہ ہوا۔جس کے بعد بائیکاٹ شدت اختیار کر گیا۔دودھ بند کرنے کے لئے احمدیہ بازار اور بیرونی راستوں میں پکٹنگ لگا دی گئی۔احمدی شفا خانہ سے غیرمسلم مریض اُٹھالئے گئے۔جن شریف اور معزز مہندو یا سکھ دوستوں نے ذاتی تعلقات کی بناء پر یا کسی اور وجہ سے احمدیوں کو سودا دیا ان کو بے عزت کیا گیا۔بعض کا منہ کالا کیا گیا اور بعض کو جوتے بھی لگائے گئے۔اس سختی کا رد عمل یہ ہوا کہ لوگوں میں آخر بائیکاٹ کے خلاف نفرت کا جذبہ پیدا ہو گیا۔چنانچہ ۲۳ جنوری 19 کا واقعہ ہے سیٹھ پیارے لال صاحب کے لڑکے کشن لال صاحب نے کسی احمدی کو شلم لا کر دیئے میں پر دو سکھوں نے اس کو تھپڑ مارے جس کی وجہ سے قریب کے دوسرے ہندود کا نذار برہم ہو گئے چنانچہ بعض ہندو دکانداروں نے علانیہ کہا کہ ہم سودا دیں گے اور ہم اس فیصلہ کی پابندی نہیں کرتے۔اور یہ کہ جماعت احمدیہ قادیان میں ۱۵ ہزار کے قریب تھی اور ہر طرح کی طاقت اور عزت کی مالک تھی لیکن ان کی طرف سے کبھی کسی کو کوئی تکلیف نہیں دی گئی لیکن یہ لوگ ابھی قادیان میں لے اس مفروض شیر کی بازگشت در ستمبر کو پھر منی گئی جبکہ دہلی کے اخبار پرتاپ " نے امرتسر کے نامہ نگار " کے حوالہ سے یہ خبر وضع کی کہ قادیان میں مقبرے کے پاس ایک اسلحہ ساز فیکٹری پکڑی گئی ہے جس میں سے بہت سا نا بھائز سامان برآمد ہوا ہے اور اس کے نتیجہ میں بارہ مسلمان گرفتار کئے گئے ہیں اس کے بعد اخبار جھے ہند جالندھر نے اپنی ۱۳ ستمبر کی اشاعت میں مزید لکھا کہ قادیان کے بہشتی مقبرہ کے پاس جو اسلحہ ساز فیکٹری پکڑی گئی ہے اس میں مزید آٹھ مسلمان پکڑ لئے گئے ہیں۔حالانکہ یہ خبریں بال غلط تھیں جن کا مقصد ملکی فضا اور مقامی حالات کو مسموم کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔