تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 69 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 69

نام ها پوری طرح آباد بھی نہیں ہوئے اور سر پر سوار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ازاں بعد اسی دن سکونت رائے، ہر نہیں لال دوار میشن (اس)، سادھو رام اور سائیں دکاندار مولوی برکات انر صاحب کے پاس آئے اور کشن لال کے واقعہ کا ذکر کیا۔نیز کہا کہ وہ اس مقاطعہ کی خلاف ورزی کریں گے اور جماعت کو سودا دیں گے اور اس بارہ میں با قاعدہ فیصلہ کر کے اس کو منسوخ کرانے کی کوشش کریں گے چنانچہ ۲۵ جنوری کی شام کو پنڈت دولت نام صاحب کی صدارت میں ایک میٹنگ کی گئی جس میں مقامی اور بیرونی لوگ شامل ہوئے۔اس میٹنگ میں مقاطعہ کو ختم کرنے کا فیصلہ ہوا۔اور ۲۶ جنوری ۹۷ تہ سے اس پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا۔احمدیہ شفاخانہ کا قیام ہے الہی میں نور ہسپتال قادیان جماعت کے قبضہ سے نکل گیا۔مران ارش اور فرسٹ ایڈ تک کا سامان کبھی نہ رہا تھا۔اس بے سرو سامانی کے عالم میں میجر ڈاکٹر محمود احمد صاحب کچھ سامان اور ادویات فراہم کر کے درویشوں کی ملیتی خدمات بجا لاتے رہے۔شروع ماه صلح اجنوری دیش میں میجر صاحب پاکستان تشریف لے آئے اور یہ اہم فریضہ کیپٹن ڈاکٹر بشیر احمد صاحب کے سپرد ہوا جسے آپ خدمت خلق کی بہترین رُوح کے ساتھ قریباً ساڑھے سات برس تک نبھاتے رہے ہے۔ابتداء میں درویشوں کا طبی مرکز ڈاکٹر احسان علی صاحب والی دکان میں قائم کیا گیا۔ان دنوں درویشوں کی نقل و حرکت صرف احمدیہ محلہ تک محدود تھی اور غیر مسلم بھی خال خال ہی احمدی علاقہ میں قدم رکھتے تھے۔ڈاکٹر صاحب موصوف کو احمدیہ شفاخانہ کا چارج سنبھالے ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ بائیکاٹ کا المناک سانحہ پیش آگیا۔بائیکاٹ کے ایام میں آپ ایک مرتبہ چند دوستوں کے ہمراہ بہشتی مقبرہ دُعا کے لئے تشریف لے گئے۔وہاں موضع مشکل کی ایک بڑھیا آئی اور کہا کہ تم لوگ نیک ہو۔اس مقدس مزار پر کھڑے ہو۔میرا داماد سخت بیمار ہے اس کی شفا کے لئے دُعا کرو۔ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھیوں نے کہا۔مائی ، ہم دعا بھی کریں گے لیکن تم اپنے داماد کو ہمارے ڈاکٹر کو دکھا کر دوا وغیرہ بھی دو۔پیکٹنگ کی سے آپ معروفا جولائی میش کو پاکستان منتقل ہوئے جیسا کہ ملک نے شہید احمدیت کوئٹہ ہے + صلاح الدین صاحب ایم۔اے نے " مکتوبات اصحاب احمد تبلد دوم صفحہ ۱۱۴ کے معاشیہ میں لکھا ہے۔قادیان اور اس کے ماحول میں غیر مسلموں کے اندر رواداری کی فضاق تم کرنے میں آپ کا بھاری عمل دخل تھا۔آپ کی شفقت و مروت کا یہ اثر ہے کہ دور و نزدیک کے ہندو سکھ آبترک اُن کو یاد کرتے اور ان کا نام عزت واحترام سے لیتے ہیں"