تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 67 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 67

۶۲ فصل چهارم کوائف قادیان ۱۳۲۷ رش کا آغاز در ویشان قادیان کے لئے صبر و رضاء درویشوں کا سوشل بائیکاٹ سے ایک نہایت کٹن امتحان سے ہوا، تفصیل اس اجمال کی کے یہ ہے کہ آخری بڑے کنوائے کے بعد ایک دن اچانک بعض ترک درویشوں کے پاس آن پہنچے۔یہ ٹرک جو پاکستان سے گورداسپور میں پناہ گزین پہنچانے کے لئے آئے تھے اور بلا وجہ واپسی پر قادیان کی مسلم آبادی کے انخلاء کے لئے بھجوا دیئے گئے ، درویشوں نے یہ کہہ کہ واپس کر دیئے کہ یہ ہمارے ٹرک نہیں۔ہم ان پر نہیں جائیں گے اور نہ ہم میں سے اب کوئی پاکستان جانے والا ہے۔اس واقعہ سے مقامی افسروں اور باشندوں دونوں کو یقین ہو گیا کہ احمدی فی الحقیقت مستقل طور پر قادیان میں بود و باش رکھنا چاہتے ہیں۔یہ بات خاص طور پر ان مقامی باشندوں کو بہت شاق گزری جو ہ کی غارت گری میں نمایاں طور پر شامل اور احمدیوں کی کوٹھیوں اور بھائدادوں پر قابض ہو چکے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ درویشوں کو کسی نہ کسی طرح تنگ کر کے قادیان سے نکال دیا جائے۔قادیان کے ایک متعصب ہندو دکاندار (امر ناتھ کے ساتھ جماعت کے تعلقات عرصہ سے کشیدہ تھے اور بیوپار کے سلسلہ میں اس پر بعض جماعتی پابندیاں عائد تھیں۔اس ہندو دکاندار نے احمدیوں سے انتقام اور ان کے خلاف محاذ آرائی کا یہ موقعہ غنیمت بھانا اور اس پرانی کشمکش کو بائیاں کا نام دے کو پہلے سردار حکم سنگھ ایڈووکیٹ مجسٹریٹ قاریان کو استعمال دلایا۔پھر یکم بنو ہی شاہ کو قادیان کے سب دکانداروں سے دستخط کرائے کہ وہ درویشوں کا مکمل سماجی بائیکاٹ کریں گے۔اگلے : :