تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 63 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 63

پونتیں ایکٹر زمین خرید کی ہے۔جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ سردست نئی بستی کے قیام پر تیرہ لاکھ روپیہ کے خرچہ کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ہم یہاں پر ایک ایسا معیاری قصبہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں ہسپتال، تعلیمی ادارے اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے علاوہ مقامی باشندوں کے لئے ہر ممکن سہولتیں مہیا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔دریائے چناب سے واٹر پمپ کے ذریعہ سے قصبہ کے لئے پانی مہیا کیا جائے گا۔اخبار نویسوں کی پارٹی نے ربوہ سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ایک اور موزون قطعہ زمین بھی دیکھا جہاں ایک صنعتی بستی قائم کی جاسکتی ہے۔یہ قطعہ سرگودھا کی نہری نو آبادی سے تقریباً آٹھ میں کے فاصلہ پر ہے۔نوم سٹار " کے چیف رپورٹر نے لکھا :- امام جماعت احمدیہ بود کو پکستان میں نمونہ کا شہر بنانا چاہتے ہیں لاہور سے سو میل دور۔احمدیوں کا نیا مرکزہ ور در نومبر لاہور سے سو میل دور احمدی ایک شہر بنام دیوہ تعمیر کر رہے ہیں جو جماعت ہائے احمدیہ پاکستان کا مرکزہ ہوگا۔شہر کے نام دیوہ کو جس کے معنے ایک پہاڑی ٹیلے کے ہیں۔مذہبی اہمیت بھی حاصل ہے۔احمدیوں کے معروف عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر جان نہیں دی بلکہ ابھی ان پر خشی اور بے ہوشی کی سی حالت طاری تھی کہ ان کے حواری انہیں صلیب سے اُتار کر کشمیر کی طرف ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے ایک پہاڑی ٹیلے پر پناہ لی احمدی قادیان سے اپنی حالیہ ہجرت کو بھی اسی ہجرت کے مشابہ جان کر کہتے ہیں کہ انہوں نے قادیان سے نکالے جانے کے بعد اس بے آب و گیاہ غیر مزرعہ کو ہستانی علاقہ میں پناہ لی ہے جس کا نام ربوع تجویز کیا گیا ہے۔یہ شہر حبس کی تعمیر کے متعلق جماعت احمدیہ نہایت بلند اور حوصلہ افزاء عزائم رکھتی ہے بارہ سو ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہوگا اور اس کی تعمیر پر اوسط اندازے کے مطابق کم از کم پچاس لاکھ روپیہ