تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 64
09 شویچہ آئے گا۔ربوہ میں دو کالج ہوں گے۔ایک لڑکیوں کا اور ایک لڑکوں کا۔اس کے علاوہ کئی اور سکول، ایک بڑا ہسپتال، شفاخانہ حیوانات ، ڈاک خانہ اور تار گھر اور ریلوے سٹیشن ہوگا بیلی مہیا کرنے کے انتظامات بھی کئے جارہے ہیں بلکہ ایک جنریٹر تو پہنی بھی چکا ہے اور ابھی دو اور جزیٹر بہت جلد لائے بھائیں گے جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اخبار نویسیوں کی ایک پارٹی کو (جو راجوہ دیکھنے کے لئے گئی تھی بتایا کہ وہ اسے پاکستان میں ایک نمونے کا شہر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو امریکی طرز پر تعمیر کیا جائے گا۔اس شہر میں صنعتی اداروں کے لئے بھی جگہ رکھی جائے گی جو شہری آبادی سے ذرا ہٹ کر ہو گی۔توقع ہے کہ شہر کی تعمیر ایک سال کے اندر اندر ختم ہو جائے گی اور جماعت احمدیہ کا آئندہ سالانہ جلسہ تو اگلے دسمبر میں ہونے والا ہے بھی ربوہ ہی میں منعقد کیا جائے گا۔" -۵ پاکستان ٹائمز کے نامہ نگار خصوصی نے حسب ذیل خبر دی :- پاکستانی احمدیوں کا نیا مرکزہ " ریائے چناب کے دائیں کنارے چنیوٹ کے قرب میں ایک نئے مثالی شہر کی بناء رکھتے ہیں نهایت دور اندیشی اور صحیح تحقیق کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔اس شہر کی آباد کاری کے لئے بارہ سو (۱۰۳۴- ایکڑ مترجم) ایکڑ اراضی کا ایک قطعہ منتخب کیا گیا ہے اور اس کا نام ربوہ تجویز ہوا۔ہے۔پچی شاہراہ سے چند قدموں کے فاصلہ پر اتفاقا گزرنے والوں کے لئے یہ ایک خوبصورت مقام ہوگا۔یہاں نہاجہ احمد یہ خلافت کا مرکز بنایا جائے گا۔امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جو اخبار نویسوں کے ہمراہ یہاں تشریف لائے تھے ، بیان کیا کہ ایک رویا جو انہوں نے کچھ دن ہوئے دیکھی تھی اور قرآن کریم کی ایک آیت نے ان کو اس اراضی کے انتخاب میں جسے حکومت نے ناقابل زراعت اور بنجر قرار دے دیا تھا مدد دی ہے۔نجمین کے دفاتر ہسپتال ، سکول ، کالج اور سڑکیں تیار کرنے میں ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ کے ابتدائی خرچ کا تخمینہ کیا گیا ہے ہو نہی صوبائی مجوز تعمیرات تعمیری نقشہ جات کو منظور کرے گا ،