تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 61
۵۶ چنانچہ میرے پہر پورے قافلے نے اس سرکاری اراضی کو بھی دیکھا۔یہ اراضی ایک ایسی پہاڑی کے دامن میں واقع ہے جسے بعض روایتوں کی بناء پر گر و بالناتھ کا ٹیلہ کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ رانجہا نے اس ٹیلہ پر گورو بالناتھ سے لوگ لیا تھا اور کان چھدوا کر مندریں ڈالی تھیں۔کوئی سات سو برس سے یہ بلہ ہندو بوگیوں کے قبضہ میں تھا۔لیکن گذشتہ فسادات کے موقعہ پر یہ ہو گی ہندوستان پہلے گئے تھے۔آج کل یہ ٹلہ جس پر تقسیم سے پہلے اچھی خاصی آبادی تھی ویران پڑا ہے۔اس قطعہ زمین میں کبھی کبھی پولیس والے چاند ماری کے لئے آجاتے ہیں۔ورنہ یہ زمین بالکل بیکار پڑی رہتی ہے۔مرزا صاحب نے کہا کہ اگر حکومت اس رقبہ میں ایک صنعتی شہر تعمیر کرانے کا پروگرام بنائے تو اس قسم کے دوسرے مقامات پر بھی نئے نئے شہر بننے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ٹیلہ بالناتھ سے واپسی پر اختبار نویسوں کی طرف سے مولانا عبد المجید صاحب سالک نے ربوہ کے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ قافلہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ہمراہ رات کے وقت واپس لاہور پہنچ گیا روز نامہ مغربی پاکستان نے حسب ذیل الفاظ میں شہر شائع کی۔۲ روزنامه چنیوٹ سے چھ میل کے فاصلہ پر احمدیوں نے ایک شہر بنانے کاکام شروع کر دیا شہر جدید طرز اور امریکی نوعیت کا ہوگا ابتدائی سکیم کی تیاریاں لاہور ، نونیز آج مرزا بشیر الدین محمود احمد امیر جماعت احمدیہ کی دعوت پر لاہور کے تمام اخبارات کی ایک پارٹی نے ربوہ کا دورہ کیا جو چنیوٹ سے چھے میل کے فاصلہ پر واقع ہے جہب پر لیس پارٹی ربوہ پہنچی تو وہاں پر سر کردہ اصحاب نے اخبارات کے نمائندوں کا خیر مقدم کیا۔ربوہ کا وہ علاقہ دکھایا جہاں تجدید طرز کا ایک چھوٹا سا شہر آباد کیا جائے گا۔یہ جگہ چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے دامن میں ایک خوشنما قطعہ اراضی ہے۔مرزابشیرالدین محموداحمد نے اخبارات کے نمائندوں کو بتایا کہ جماعت احمدیہ نے حکومت مغربی