تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 60 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 60

AA ربوہ پہنچنے پر مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہوں نے نئے شہر کی تعمیر کا نقشہ امریکی طرز پر بنوایا ہے اور یہ شہر پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا شہر ہوگا۔اس میں سکول ، کالج ، ہسپتال ، واٹر ورکس اور بجلی گھر، غرضکہ ایک جدید طرز کے شہر کے تمام لواقعات نہیتا کئے جائیں گے۔ریلوے سٹیشن اور ڈاکخانہ ، تار گھر کھولنے کے لئے حکومت سے اجازت حاصل کر لی گئی ہے اور بہت جلد ان کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔مرزا صاحب نے بتایا کہ وہ خشک اور بنجر پہاڑیوں کو سیر گاہوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔تاکہ ان پہاڑیوں پر مختلف قسم کے پھول اور سبزی وغیرہ اُگانے سے ایک تو موسم گرما میں اس نئے شہر کے لوگ گرمی کی شدت سے محفوظ رہ سکیں اور دوسرے ان پہاڑیوں پر سیرو تفریح کا لطف بھی اٹھایا جا سکے۔آپ نے اخباری نمائندوں کے سامنے ربوہ نام کی تاریخی اہمیت مذہبی حیثیت کو اپنے الہامات اور رویاء کی روشنی میں واضح کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ ایک سال کے اندر اندر نئے شہر کی تعمیر کے کام کو مکمل کر لیں گے۔مرزا صاحب نے بتایا کہ نہ صرف مغربی پنجاب بلکہ مغربی پاکستان میں اس قسم کے کئی بنجر اور اور غیر آباد علاقے بے مصرف پڑے ہیں۔اگر مشرقی پنجاب کے بڑے بڑے شہروں مثلاً جالندھر امر تسر اور لدھیانہ کے مسلمان اپنی سابقہ جماعت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی صنعتوں کو کو آپریٹورکھنا چاہتے ہیں تو اُن کے لئے لازم ہے کہ وہ ربوہ کی قسم کے نئے قصبوں کو بائیں ویسے بھی کئی دفاعی ضرورتیں اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہمارے صنعتی علاقے سرسید سے کافی ڈور ہوں اور ان کی ڈیفنس کا کوئی قدرتی انتظام ہو۔صرف اسی صورت میں ہم اطمینان سے بیٹھ کر اپنی صنعتوں کو ترقی یافتہ ممالک کے معیار پر لا سکتے ہیں۔آپ نے بتایا کہ یہاں ریوہ سے سرگودھا جانے والی سڑک پر کوئی سترہ اٹھارہ میل کے فاصلہ پر پہاڑیوں کے دامن میں تین چار ہزار ایکڑ پرمشتمل ایک سرکاری قطعہ زمین پڑا ہے۔اس سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا جا رہا۔اگر لدھیانہ یا امرت سرکے کا دیگر اس قطعہ زمین کو حاصل کر کے یہاں ایک صنعتی شہر آباد کرنا چاہیں تو حکومت سے بھی مدد کی امید کی بھاسکتی ہے۔اختبار نویسوں کے اشتیاق پر مرزا صاحب نے اس قطعہ زمین کے دورہ کا بھی پروگرام بنایا