تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 270
رہو گے تو جیت جاؤ گے۔اور اگر مارے جاؤ گے تو جنت میں چلے جاؤ گے اب بتاؤ کیا تمہارے اللہ نے کا کوئی ڈر ہو سکتاہے کیونکہ تم مجھتے ہو کہ اگر میں لڑائی کے میدان میں کھڑا رہا اور راہ رہا تو دو ہی صورتیں ہیں یا جین جاؤں یا جنت میں پہلا جاؤں گا پس تمہاری بہادری کا ہندو کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے۔وہ تو یہ جانتا ہے کہ اگرمی دریا تو بدر بن جاؤں گا یا سور بن جاؤں گا پاکت بن جاؤں گا ہر اس کا تناسخ ہے۔تم یہ تو جانتے ہو کہ مرکے جنت میں چلے جائیں گے اور وہ یہ جانتا ہے کہ مر کے کیا بن جاؤں گا۔سور بن جاؤں گا بندر بن جاؤں گا تو مسلمان اور ہندو کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہو سکتا اسے تو کتا یا سٹور بننے کا وڈ لگا ہوا ہے اور تم میں جنت میں جانے کا شوق ہے۔تمہارا اور اس کا مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے دلیری کے اتنے مواقع پیدا کر دیئے گئے ہیں کہ اس کو کوئی گزند آہی نہیں سکی تاید فصل سوم حضرت نواب محمد الدین صاب کی تقال سیدنا حضرت امیر المومنین اصلح الموعود کو مثه می ہی تشریف فرما تھے کہ حضور انور کی خدمت میں یہ روح ایسا اطلاع پہنچی که خانه بها در حضرت چوہدری نواب محمدالدین شاه مری میں انتقال فرما گئے۔إنا لله وانا البارد الحون له حضرت نواب صاحب سلسلہ احمدیہ کی نہایت معروف ولی از شخصیت اور انتہائی مخماس بزرگ تھے جنہوں نے مسیح محمدی کا مبارک زمانہ پایا اور تحریک احمدیت سے دلی طور پر وابستہ ہوئے مگر سعیت حضرت مصلح موعود کے دست مبارک پر ۱۹۲۷ء کے لگ بھگ کی۔✓ میر روحانی جلد سوم ۲۷۶ تام ۲۸ - نامستر الشركته الاسلامیه رکوه - راجعون سے اخل مادر وفا کر جولائی ۱۳۲۸ پیش / ۱۴۹:وت ، آپ مشہور را جوت باجوہ خاندان سے تعلق ربانی روایات پر