تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 264 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 264

دورالي حضرت امیر المومنین نے میں حقیقت ایک دوسرے رنگ ہیں۔۲۹ روفا / جولائی کو بھی خطبہ جمعہ کے واضح کی اور کھلے لفظوں میں انتباہ فرمایا کہ :- الہی جماعتوں کا یہ طریق ہوتا ہے کہ دشمن انہیں مارنا چاہتے ہیں تو ان کے افراد اس سے گھبراتے نہیں بلکہ اپنے آپ کو موت کے لئے پیش کرتے چلے جاتے ہیں اور اگر ہم ایک نبی کی جماعت میں تو یقینی ایک دن ہمارے مخالف نہیں کھیلنے کی کوشش کریں گے اور چاہیں تھے کہ اس کانٹا کہ اس رستہ سے ہٹا دیا جائے مگر جب ایسا وقت آئے گا تو کیا وہ لوگ جو اب اپنی آمد کا بڑا حصہ بھی بطور چندہ نہیں دیتے اس وقت سینکڑوں روپے کی ماہوار آمد کو چھوڑ دیں گے ؟ جماعت پر جب بھی ایسا وقت آئے گا وہ اپنے آپ کو بغیر احمدی کہنا شروع کر دیں گے اور اپنے دلوں کو اس طرح تسلی دے لیں گے کہ خدائی لئے تو ی علم الغیب ہے ده تو جانتا ہے کہ ہم دلی سے احمدی ہیں۔اُس وقت جماعت کا کتنا حصہ ہوگا جو باقی رہ جائے گا اور کہے گا کہ اچھا تم نہیں مارنا چاہتے ہو تو مارتے جاؤ۔ملازمتوں سے الگ کرنا چاہتے ہو تو الگ کر دو۔ملک بدر کرتے ہو تو ملک بدر کردو جیل خانوں میں ڈالتے ہو تو جیل خانوں میں ڈال دو۔ہم وہاں بھی فریضہ تبلیغ کو نہیں چھوڑیں گے تم نہیں پھانسی دیتے ہو تو دے دو ہم پھانسی کے تختوں پر بھی نعرہ ہائے تکبیر بلند کریں گے۔جب جماعت میں ایسا رنگ پیدا ہو جائے گا تو پھر وہی افسر جو ملک بدر کرنے پر مامور ہوں گے۔اسی طرح جیلیخانوں کے افسر اور جلاد و غیر سبب احمدیت کو قبول کرلیں گے کہ احمدیہ جماعت واقعی الہلی جماعتوں والا رنگ رکھتی ہے لیکن جو شخص ابھی سے اپنے آپ کو اس گھڑی کےلئے تیار نہیں کہ تا اس پر ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ ره وقت آنے پر ثابت قدم رہے گا۔بے شک جماعت میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی د نیری جائدادوں اور اپنی آمدنوں پر لات مار کر دین کی خدمت کے لئے آگئے ہیں۔مگر پھر بھی جماعت کا ایک حصہ سست اور غافل ہے اور اس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔یاد رکھو! جب تک جماعت کا اکثر حصہ نبیوں کی جماعتوں کی طرح مار کھانے کے لئے تیار نہیں ہو جاتا ہم اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔مارکھانا بڑے حوصلے کی بات ہے جو مارتے ہیں وہ دنیا کی توجہ اپنی طرف نہیں پھیر سکتے۔مگر جو مار کھاتے ہیں ان کی طرف دنیا کی توجہ پھر جاتی ہے۔الفضل منظور / اگست ۱۳۲۸ش ۲۶۱۹۴۹