تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 265 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 265

۲۵۵ مضان المبارک کی برکات سے متعلق ۲۶ روقار جولائی کو انتیسواں روزہ تھا۔اس موقع پر جماعت احمدیہ کوئٹہ بصیرت افروز خطاب اور اجتماعی شما کے تمام احجاب مردوزن پارک ہاؤس میں اجتماعی دعا کے لئے جمع ہوئے حضرت امیر المومنین نے باوجود نا سازی طبع کے شمولیت کی اور ارت و فرمایا۔* رمضان بڑی ہر کمتوں والا مہینہ ہے اس میں انسان خدا تعالے کے فضلوں کے حصول کے۔لئے جتنی بھی کوشش کر سکے اسے کرنی چاہئیے۔سب سے بڑا سبق جو رمضان نہیں دینے کے لئے آتا ہے وہ یہ ہے کہ مومن کو چاہئے کہ اپنی روحانیت کی تکمیل کے لئے دوسرے ایام میں بھی روزہ سے رکھتا رہے مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں اس طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے رمضان آتا ہے تو لوگ روزے رکھنے اثر دعا کر دیتے ہیں اور بعض اتنا تعہد کرتے ہیں کہ مسافر اور مریض بھی روزے رکھتے ہیں۔اور کوئی نہ کوئی ایسی توجیہہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے ان کے لئے روزہ رکھنا جائز قرار دیا جاسکے لیکن اس کے بعد سارا اسال اس سبق کو بھلا دیا جاتا ہے اور کبھی نفلی روزے نہیں رکھتے جاتے حالانکہ یہ ایام صرف اپنی ذات میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ایام میں بھی روزے رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔اسلام کی بڑی بڑی عبادتیں نماز روزہ۔زکوۃ اور تی ہیں لیکن اگریم غور کے ساتھ کام میں تو نہیں یہ چاروں عبادتیں نوافل کے ساتھ وابستہ نظر آتی ہیں مثلا نما کے لئے اگر دیدن میں پانچ وقت مقرر ہیں لیکن اس کے ساتھ کئی نوافل نگا مجھے گئے ہیں۔حج اگر چہ سال میں ایک دفعہ مقرر ہے مگر اس کے ساتھ عمرہ لگا دیا گیا ہے جو سال میں ہر وقت ہو سکتا ہے۔زکوۃ اگر چہ سال میں ایک دفعہ مقرر ہے مگر اس کے ساتھ صدقہ لگا دیا گیا ہے جو ہر وقت کیا جا سکتا ہے اسطرح رمضان بھی یہ بتانے کے لئے آتا ہے کہ دوسرے ایام میں بھی ہمیں روزے رکھنے چائیں۔گویا رمضان ٹرینگ کا مہینہ ہے اور جبس غرض کے لئے اس میں مشق کرائی جاتی ہے اگر وہ پوری نہ ہو تو مشین کا فائدہ ہی کیا ؟ ایک سپاہی کو پریڈ گولی چلانا اور دوسرے فنون حربہ اس لئے سکھائے جاتے ہیں نا وہ وقت آنے پر قوم اور ملک کی خدمت کر سکے۔اگر وہ وقت پر یہ کہہ دے کہ میں نے جو کچھ کر نا تھا اٹنگ کے عرصہ میں کر لیا ہے تو اسے کو ان عقلمند کہے گا۔صحابہ میں نفلی روزے رکھنے کا خاص ہوش پایا جاتا تھا لیکن دیکھتا ہوں کہ