تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 263 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 263

۲۵ رہ جاتی ہیں لیکن الہی سنت یہ ہے کہ جب بیرونی مصائب کا نہ مانہ ختم ہو جاتا ہے تو اندرونی مصائب شروع ہو جاتے ہیں۔صحابہ اس نکتہ کو خوب سمجھتے تھے اسی وجہ سے سیب اللہ تعالے نے مسلمانوں کو عرب پر فتح دی تو اس کے بعد وہ خاموش ہو کہ نہیں بیٹھ گئے بلکہ انہوں نے قیصر اور کرے دو زبر دست بادشاہوں سے لڑائی سروتا کردی۔لوگ خیالی کہتے ہیں کہ شاید دنیا کا لالچ یا دنیا کی بڑائی کی فی مہیش میں صحابہ نے ایسا کیا لیکن واقوت اس کی تردید کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں تھی کہ حضرت ابوبکر یہ جانتے تھے کہ جاب بھی بیرونی خطرہ کم ہوا اندرونی فسادات شروع ہو جائیں گے اس لئے جب قیصر نے حملہ کیا تو انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ قیصر نے حملہ نہیں کیا بلکہ خطر نے ایک راہ نکالی ہے تاکہ مسلمان ایک مصیبت کے ذریعہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور اپنے اندر نئی زندگی اور نیا تغیر پیدا کریں حضرت عمر اور حضرت عثمان نے بھی ان حملوں کو ایک خدائی انتباہ سمجھا اور وہ لڑائی کے لئے تیار ہو گئے تاکہ مسلمان بیدار رہیں اور ان کے اندر نئی روح اور نئی کہ ندگی پیدا ہوتی رہے۔حقیقت یہ ہے کہ مصائب خدا کی طرف سے اس لئے آتے ہیں تا کہ قوم میں آرام کے سامانوں کے پیدا ہونے کی وجہ سے بھی طو پر وہ دنیا کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔انفرادی طور پر تو ایسے ہزاروں لوگ مل سکتے ہیں جو بڑی بڑی دونوں کے مالک ہونے کے باوجود خدا تعالے کو نہیں بھولتے مگر قومی طور پر اس مقام پر پہنچنا بڑا مشکل ہوتا ہے تو میں اسی وقت تک اللہ تعالے کی طرف متوجہ رہتی ہیں جب تک وہ مصائب اور آفات میں گھری رہتی ہیں پس مصائب کا نہ مانہ روحانی ترقی کے لئے ایک نہایت ضروری چیز ہے اگر کسی وقت باہر سے مصائب نے آئیں تو مومن کو چاہیئے کہ وہ اپنے لئے اندرونی طور پر خود مصائب تائش کرنے کی کوشش کرے۔یہ غلط خیال ہے کہ انبالا صرت ابتدائی زمانہ ہیں آیا کرتے ہیں ترقی کے زمانہ میں ابتلاؤں کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتوں کی ترقی اور ابتلاء یہ دو توام بھائی ہیں۔ابتدائی سے ابتدائی زمانہ میں بھی ابتلا آتے ہیں اور تنہائی عروج کے وقت بھی ابتکار آتے ہیں۔الفضل ۲ دق جولائی ۳۲۸ اسپینر ۶۱۹۴۹- صد -