تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 222
۲۱۵ اب میں سجدہ میں گر کر دعا کرتا ہوں کیونکہ مسجد ڈھا کے لئے ایک خاص مقام ہوتا ہے۔اگر جگہ نہ ہو تو لوگ ایک دوسرے کی پیٹھوں پر بھی سجدہ کر سکتے ہیں۔دیہ الفاظ کہتے ہی حضور سجدہ میں گر گئے اور حضور کے ساتھ ہی ہزاروں مخلصین جو اس با برکت اجتماع میں شمولیت کے لئے دور و نزدیک سے تشریف لائے ہوئے تھے وہ بھی سر بسجود ہو گئے اور رب العرش سے اس مقام کے بابرکت ہونے کے متعلق آنسوؤں کی چھڑی اور آہ و بکا کے شور کے ساتھ دعائیں کی گئیں ) لينا تقبل منا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ له شنل کی خصوصی اشاعت ادراہ شہادت اپریل کو ادارہ الفضل نے افضل کا ایک بیوہ غیر نکالا جس میں ہجرت اور مرکز د بیوہ اور جلسہ ربوہ کے متعلق مضامین اور نظمیں شائع کیں۔ہجرت پاکستان کے بعد روزنامہ الفضل کا یہ پہلا خصوصی شمارہ تھا جو جماعت کی پر مسرت اور مقدس تقریب افتتاح پر منظر عام پر آیا اور جو ایک نئے موسم بہار کی آمد کا پتہ دیتا تھا خطبہ جمعہ میں جماعت کو ہمیشہ مرکز بیت امام تمام کی اس پر معارف اور ولولہ انگیز تقریر کے بعد حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب مبلغ انگلستان سے وابستہ رہنے کی موثر تحر یک امریکہ شیخ بشیر احمد صاحب ایڈوکیٹ لاہور اور مصر ، حضر سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے موثر تقاریر فرمائیں۔۳ سے ۴ مجھے جمعہ و عصر کی نمازیں پڑھی گئیں۔سید نا عضرت مصلح موعود نے خطبہ جمعہ میں مخلصین جماعت کے سامنے شہد کی مکھی کے تعجب خیز نظام کی مثال بیان فرمائی اور نہایت دلکش پیرایہ میں یہ نصیحت فرمائی کہ ہمیشہ اس بات کو یاد رکھو کہ تم نے بے مرکز نہیں رہنا۔اسلام کا غلیہ اور احمدیت کی ترقی مرکز بیتہ ہی کے ساتھ وابستہ ہے۔له قضیہ جمعہ اور نماز کی ادائیگی کے بعد پہلے دن کا اجلاس ودم منعقد ہوا جس میں مولوی غلام احمد صاحب فاضل بدوملہی ، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تعلیم الاسلام کالج اور حضرت له الفضل جلر سالانہ نمبر ۱۳۳۹ بهش ۱۹۶۰، صفحه ۵ تا ۱۳ ه مفصل تحطيه الفضل در احسان ارجون میش میں شائع شدہ ہے۔؟