تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 221
۲۱۴۴ اللہ تعالٰی سے یہ دعا کی کہ اے خدا میں ابراہیم کی طرح تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو مدینہ کو بھی اسی طرح برکتیں دے جس طرح تو نے ملکہ کو برکتیں دی ہیں۔اسی طرح ہم بھی اس مقام کے بابرکت ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں۔ہم محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور غلام ضرور ہیں۔اور جہاں آقا جاتا ہے وہاں خادم بھی جایا کرتا ہے۔گورنر کی جب کسی جگہ دعوت ہو تو اس مقام پر گورنر کا چپڑاسی پہنچے جایا کرتا ہے پس محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے خادم ہونے کی حیثیت سے ہمارا بھی خدا پر حق ہے اور ہم بھی خدا تعالی کو اس کا یہ حق یاد دلاتے ہوئے اس سے کہتے ہیں کہ اے خدا جیس طرح تُو نے مکہ اور مدینہ اور قادیان کو برکتیں دیں اسی طرح تو ہمارے اس نئے مرکز کو بھی مقدس بنا اور اسے اپنی برکتوں سے مالا مال فرما۔یہاں پر آنے والے اور یہاں پر بسنے والے ، یہاں پر مرنے والے اور یہاں پر بھینے والے سائے کے سارے خدا تعالیٰ کے عاشق اور اس کے نام کو بلند کرنے والے ہوں اور یہ مقام اسلام کی اشاعت کے لئے احمدیت کی ترقی کے لئے ، روحانیت کے غلبہ کیے لئے خدا تعالے کے نام کو بلند کرنے کے لئے محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا نام اُونچا کرنے کے لئے اور اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنے کے لئے بہت اہم اور اُونچا اور صدر مقام ثابت ہو۔پس آؤ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالے اس مقام کو ہمارے لئے باہر کات کرے اور ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم منشائے ابراہیمی ، منشار محمدی اور منشار مسیح موعود کے مطابق اس مقام کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے ایک بہت بڑا مرکز بنائیں اور خدادہ ہے کے فضل ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائیں کہ ہم نے اس مقام کو اشاعت اسلام کے لئے مرکز قرار دے کر خودارادے کئے ہیں وہ پورے ہو جائیں کیونکہ سچی بات یہی ہے کہ ہم نے جو ارادے کئے ہیں اُن کو پورا کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ر اس کے بعد حضور نے ان ہزارہا مخلصین کے ساتھ جنہیں اللہ تعالی نے اس مقدس اجتماع میں کے بعد نے ہزار کے ساتھ اور ای نے اس مقدس ہوں شریک ہونے کی توفیق بخشی تھی اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر ایک لیبی دعا کی اور پھر فرمایا ،