تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 216
۲۰۹ سینکڑوں سال تک مکہ کے لوگ مشرک رہے مگر ابراہیمی رزق اُن کو بھی پہنچتا رہا۔ہاں تیری نسل ہونے کی وجہ سے وہ اُخروی عذاب سے بچ نہیں سکتے۔مر جائیں گے تو وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے اور وہ بہت بڑا ٹھکانا ہے۔پھر فرماتا ہے۔یاد کرو جب ابراہیم اولہ اسما عیل مل کہ بیت اللہ کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے تھے کہ خدایا تیرا گھر تو برکت والا ہی ہو گا۔کون ہے جو اُسے برکت سے محروم کر سکے۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہماری نسل میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو نمازیں پڑھنے والے اور تیری یاد میں اپنی زندگی بسر کرنے والے ہوں تاکہ اس گھر کی برکت سے انہیں بھی فائدہ پہنچے۔مگر اگلی اولادوں کو ٹھیک کرنا آئندہ نسلوں کو درست کرنا اور اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا۔اے ہمارے رب ! ہم نے خالص تیرے ایمان اور محبت کے لئے یہ گھر بنایا ہے۔تو اپنے فضل سے اسے قبول کرلے اور اس کو ہمیشہ اپنے ذکر اور برکت کی جگہ بنا دے۔اِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ تو مہاری دردمندانہ دعاؤں کو سننے والا اور ہمارے حالات کو خوب جاننے والا ہے۔تو اگر فیصلہ کر دے کہ یہ گھر ہمیشہ تیرے ذکر کے لئے مخصوص رہے گا تو اسے کون بدل سکتا ہے۔وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ - اس آیت سے یہ نتیجہ بھلتا ہے کہ بیت اللہ بنانے کے در حقیقت دو حصے ہیں۔ایک حصہ بندے سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا حصہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے جس مکان کو ہم بیت اللہ کہتے ہیں وہ اینٹوں سے بنتا ہے۔چونے سے بنتا ہے۔گارے سے بنتا ہے۔اور یہ کام خدا تعالیٰ نہیں کرتا بلکہ انسان کو تا ہے مگر کیا انسان کے بنانے سے کوئی مکان بیت اللہ بن سکتا ہے۔انسان تو صرف ڈھانچہ بنا تا ہے۔روح اس میں خدا تعالے ڈالتا ہے۔اسی امر کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ڈھانچہ تو میں نے اور اسمعیل نے بنا دیا ہے مگر ہمارے بنانے سے کیا بنتا ہے۔ربنا تقبل منا۔اے خدا تو ہمارے اس تحفہ کو قبول کر اور اسے اپنے پاس سے مقبولیت عطا فرما۔ورنہ محض مسجدیں بنانے سے کیا بنتا ہے۔کئی مسجد میں ایسی ہیں جو باپ دادوں نے بنائیں اور بیٹوں نے بیچ ڈالیں۔کئی مسجدیں انیسی نہیں جو بادشاہوں