تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 215
Y-A حکومتیں حملہ بھی کرتی ہیں۔یا بعض شہر جب بڑے ہو جائیں تو اُن کے رہنے والے اپنا نفوذ بڑھانے کے لئے دوسروں پر حملہ کر دیتے ہیں۔اور چونکہ یہ سارے مند شات، شہروں سے وابستہ ہوتے ہیں اس لئے میں تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو اسے امن والا بنائیں۔نہ کوئی اس پر حملہ کرے۔اور نہ یہ کسی اور پر حملہ کرے۔وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ اور اس کے رہنے والوں کو شرات ویکیو میں پہلے بتا چکا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ تسلام کی اس دُعا کا یہ مفہوم ہے کہ اے خدا ! میں تجھے سے ان کے لئے روٹی نہیں مانگتا۔میں تجھ سے پلاؤ نہیں میں تجھ سے ڈینے کا گوشت نہیں مانگتا۔بے شک یہ کبھی تیری نعمتیں ہیں۔اور اگر ان کو بل بجائیں تو تیرا فضل اور انعام ہے۔مگر میں جو کچھ چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تو ان کو وہ پھل کھلا جو دس میں لے جا کر بھی سڑ جاتا ہے۔تو دنیا کے کناروں سے ان کے لئے ہر قسم کے پھل لا اور انہیں ان پھلوں سے متمتع فرما۔منْ آمَنَ مِنْهُمُ بِاللَّهِ وَالْيَوم الأخير - پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ میری اولاد میں سے بھی نبی بنائیو۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا که اگر وہ نیک ہوں گے تو ہم ان کو اپنے انعامات سے حصہ دیں گے ورنہ نہیں۔بنی بڑا محتاط ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ میں ہر ایک کو یہ انعام نہیں دے سکتا۔جو نیک ہوگا صرف اسے انعام ملے گا۔تو اس دوسری دُعا کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ یا اللہ جو نیک ہوں صرف ان کو رزق پیجید - قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَا مَتِّعَهُ قَلِيلًا م اضْطَتُ إلى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ المُصيره الله تعالیٰ نے فرمایا کہ رزق کے معاملہ تاں ہمارا اور حکم ہے۔اور نبوت اور امامت کے معاملہ میں ہمارا اور محکم ہے۔نبوت اور امامہ " صرف نیک لوگوں کو ملتی ہے ، مگر رزق ہر ایک کو ملتا ہے۔پس جو کا فر ہو گا دنیا کی روزی ہم اس کو بھی دیں گے چنانچہ