تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 205
19A کے لئے بہت مشہور ہے۔یورپ کے لوگ کہتے ہیں کہ بہترین انگور اٹلی میں ہوتے ہیں۔مگر میں نے اٹلی کے لوگوں سے کہا کہ مکہ کی دادی غیر ذی زرع میں ابراہیمی پیشگوئی کے ماتحت جو انگور میں نے کھائے ہیں وہ اٹلی کے انگوروں سے بہت زیادہ میٹھے اور بہت زیادہ اسلئے تھے۔ہمارے ارد گرد قند بھار کوئٹہ اور کابل کا انار مشہور ہے۔مگر میں نے جو موٹا سُرخ شیریں اور لذیذ انار مکہ میں کھایا ہے اس کا سینکڑواں حصہ بھی قندھار اور کوئٹہ اور کابل کا انار نہیں۔غرض حضرت ابراہیم علیہ اسلام فرماتے ہیں۔دَارُزُقُهُمْ مِنَ الثَّمَرَاتِ اسے خدا ! میں نے اپنی بندگی کا انتہائی ثبوت دے دیا ہے۔اب تجھ سے میں کہتا تو اور۔ہوں کہ تو بھی اپنی خدائی کا انتہا درجے کا ثبوت دے اور وہ ثبوت میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ یہ نہ کمائیں بلکہ لوگ کما کر ان کے پاس لائیں اور لائیں بھی معمولی چیزیں نہیں بلکہ دنیا بھر کے بہترین پھیل اور میوے لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ اے میرے رب میں احسان کے طور پر نہیں کہتا۔میں یہ نہیں کہتا کہ اگر ایسا ہوا تب میرا بدلہ اُترے گا یا تب میری اولاد کی قر بانی کا بدلہ اُترے گا۔میں نے بیشک ایک مطالبہ کیا ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں نے کوئی قربانی کی ہے بلکہ میں نے یہ مطالبہ محض اس لئے کیا ہے کہ بندے نے اپنی بندگی کا انتہائی ثبوت دے دیا۔اب تو بھی اپنی خُدائی کا ثبوت دے لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ۔تاکہ میری اولاد ایمان پر قائم رہے اور اسے یقین ہو کہ کیسی زبر دست طاقتوں کا مالک وہ خدا ہے جس کی خدمت کے لئے وہ یہاں بیٹھے ہیں۔بظاہر یہ ایک چیلنج معلوم ہوتا ہے کہ دیکھ لیں نے کتنی قربانی کی ، اب تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے۔مگر میری یہ غرض نہیں کہ تو میرے فعل کی وجہ سے انہیں یہ پھل کھلا بلکہ میری غرض یہ ہے کہ تیرے فعل سے مینی نوع انسان کے اندر ایمان پیدا ہو گویا اس میں بھی اصل غرض تیرے نام کی بلندی ہے ، اپنے نام کی بلندی نہیں۔