تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 204 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 204

194 پیدا نہیں ہوتی۔اس جگہ دُنیا بھر کے میوے آئیں اور یہ اُن میووں کو یہاں بیٹھ کر کھائیں تو روٹی دے گا تو میں نہیں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دیا ہے۔تو چاول کھلائے گا تو میں نہیں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دیا ہے۔تو زردہ اور پلاؤ کھلائے گا تو میں نہیں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دیا ہے۔میں تیری خدائی کا ثبوت تب مانوں گا جب یہ مکہ میں بیٹھ کر چین اور جاپان اور یورپ اور امریکہ کے میوے کھائیں تب میں مانوں گا کہ تو نے اپنی خدائی کا ثبوت دے دیا ہے۔میں نے بندہ ہو کر ایک انتہائی قربانی کی ہے۔اب اسے خدا ! میں تیری خدائی کو بھی دیکھنا چاہتا ہوں اور وہ بھی اس رنگ ہیں کہ اس وادی غیر ذی زرع میں دنیا کا ہر بہترین رزق تو انہیں پہنچا۔خدا تعالٰی نے ابراہیم کے اس چیلنج کو قبول کیا اور اس نے کہا۔اے ابراہیم ! تو نے اپنی اولاد کو ایک وادی غیر ذی زرع میں لا کر بسایا ہے اور مجھ سے کہا ہے کہ میں نے اپنا بیٹا قربان کر دیا ہے ، اب تو کبھی اپنی خدائی کا ثبوت دے تو نے کہا ہے کہ ہمیں نے ایک عاجز بندہ ہو کہ اپنی بندگی کا ثبوت دے دیا، اب اسے دا ! تو بھی اپنی خدائی کا ثبوت دے۔اور تو نے ثبوت یہ مانگا ہے کہ یہ نہ کمائیں بلکہ بنی نوع انسان کمائیں اور انہیں کھلائیں اور کھلائیں بھی معمولی چیزیں نہیں بلکہ دنیا بھر کے میرے ان کے پاس پہنچیں۔میں تیرے اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں اور میں اس وادی غیر ذی زرع میں جہاں گھاس کی ایک پتی بھی نہیں اگتی تجھے ایسا ہی کر کے دکھاؤں گا۔میں نے حج کے موقعہ پر خود اس کا تجربہ کیا ہے۔میں نے مکہ مکرمہ میں ہندوستان کے گتے دیکھے ہیں۔میں نے مکہ مکرمہ میں طائف کے انگور کھائے۔میں نے مکہ مکرمہ میں اسلئے درجہ کے انار کھائے ہیں۔گنے کے متعلق تو مجھے یاد نہیں کہ میری طبیعت پر اس کے متعلق کیا اثر تھا لیکن انگوروں اور اناروں کے متعلق میں شہادت دے سکتا ہوں کہ ویسے اعلیٰ درجہ کے انگور اور انارہ میں نے اور کہیں نہیں کھائے۔میں یورپ بھی گیا ہوں۔میں شام بھی گیا ہوں۔میں فلسطین بھی گیا ہوں۔اٹلی کا ملک انگوروں