تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 206
194 ربَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا تُخْنِى وَمَا نَعلِنُ پھر ابراہیم کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ بچہ چھوٹا ہے بیوی جوان ہے۔یہ میری دوسری وجی ہے۔میری بڑی بیوی جو میری پھوپھی زاد بہن ہے میرے گھر میں موجود ہے اور اس سے نسل بھی ہو رہی ہے۔ہاجرہ یہ بھی جانتی ہے کہ وہ میری چہیتی بیوی ہے اور یہ بھی بھانتی ہے کہ اس سے اولاد ہو گئی ہے۔اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ یہ ظالم اس بیوی کی خاطر مجھے یہاں چھوڑے جا رہا ہے اور اس بچے کی خاطر میرے اس بچے کو چھوڑ رہا ہے اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گر گئے اور انہوں نے کہا۔رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا تُخْفى وَمَا نُعلن۔اسے میرے رب میں نے تیرے نام کی عزت کے لئے اپنے اوپر یہ دھبہ قبول کیا ہے۔میں اپنی بیوی کو یہاں اس لئے نہیں چھوڑ رہا کہ میں اپنی پہلی بیوی کو اس پر مقدم رکھتا ہوں۔میں اپنے بچے کو یہاں اس لئے نہیں چھوڑ رہا کہ میں اس بچے پر دوسرے بچہ کو مقدم رکھتا ہوں۔بلکہ اے خدا ! اس بیوی کو میں اس لئے یہاں چھوڑ رہا ہوں کہ تو نے مجھے اس کا حکم دیا ہے اور اسے خدا ! یہ بچہ مجھے بہت عزیز ہے۔اسحق سے ذلیل مجھ کر میں اسے بہار نہیں چھوڑ رہا ئیں اس کی وراثت میں اسے روک سمجھ کر یہاں نہیں چھوڑ رہا بلکہ سے خدا با وجود اس کے کہ یہ مجھے بہت پیارا ہے میں اسے اس لئے یہاں چھوڑتا ہوں کہ تونے اسے یہاں چھوڑنے کو کہا ہے نیلم کا التا ، یہ بے وفائی کا الزام ، یہ سنگدلی کا الزام ، اے خدا ! میں نے محض تیرے لئے قبول کیا ہے۔میری بیوی اس نکتہ کو نہیں سمجھ سکتی۔وہ سمجھے گی کہ میں نے دوسری بیوی کی خاطر اسے یہاں چھوڑا ہے۔میرا بچہ بھی اس بات کو نہیں سمجھ سکتا۔وہ بڑا ہو کر کہے گا کہ باپ کیسا ظالم تھا وہ مجھے اور میری ماں کو یہاں چھوڑ گیا۔اے میرے رب ! میں اپنے دل کا درد کس کو بتاؤں سوائے تیری ذات کے جیسے سب کچھ علم ہے۔تجھے پتہ ہے کہ میرے دل میں کتنا دکھ ہے۔تجھ کو پتہ ہے کہ یہ ظاہری سنگدلی اور ظلم کا الزام میں نے محض تیرے حکم کو پورا کرنے کے لئے اپنے اوپر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا يخفى عَلَى اللهِ من شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ۔ابراہیم نے کہا تھا۔تو جانتا ہے کہ