تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 189 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 189

۱۸۳ اور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ صاحب نے ۲۵ مارچ کو ربوہ بالنگ سٹیشن کی منظوری دے دی بلیلہ ازاں بعد مورخہ ۱سرامان / مارچ کی شام تک ربوہ کا نیاسٹیشن مکمل ہو گیا اور پلیٹ فارم اور بکنگ آفس بن گیا نیز ٹیشن کا تمام عملہ بھی رابوہ میں پہنچ گیا۔پہلے اسٹیشن ماسٹر چو ہدری محمد صدیق صاحب آف نارووال مقرر ہوئے۔یکم ماہ شہادت / اپریل کو گاڑیوں کی باقاعدہ آمد و رفت شروع ہو گئی۔پہلی گاڑی جو سرگودھا کی طرف سے آئی، صبح سات بجکر بیس منٹ پر کھڑی ہوئی۔اس موقعہ پر ربوہ کے تمام احمدیوں کے علاوہ احمدنگر کے بھی اکثر احباب نیز جامعہ احمدیہ کے طلباء قطار در قطار کھڑے تھے۔حضرت قاضی حمد عبداللہ صاحب ا ظرفیت نے گاڑی آنے سے پہلے نہایت رقت انگیز دعا کرائی جنگل میں پہاڑیوں اور ٹیلوں کے درمیان اجتماعی دعا کا یہ نظارہ بڑا ہی پر کیف اور مجیب تھا جس سے الہام " جنگل میں منگل کا نظارہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔دُعا کے بعد دُور لالیاں کی طرف سے گاڑی آتی دکھائی دی تو تمام دوستوں نے فرط مسرت سے بے اختیار پر بجوش نعرے بلند کئے۔ربوہ اسٹیشن سے پہلا ٹکٹ مولوی محمد اسمعیل صاحب معتبر آڈیٹر تحریک جدید نے خریدا۔اور سب سے پہلی ٹرین پر تئیس روپے سات آنے کے ٹکٹ فروخت ہوئے ٹکٹ لینے والے دوست گاڑی میں سوار ہوئے اور گاڑی فر مائے تکبیر میں چل دی۔دوسری گاڑی اس کے معا بعد چنیوٹ سے ربوہ آئی جس سے تعلیم الاسلام ہائی سکول اور جماعت چنیوٹ کے بیسیوں احباب کے علاوہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی تشریف لائے حضرت مفتی صاحب نے جملہ حاضرین سے مصافحہ کیا جس کے بعد یہ گاڑی بھی روانہ ہو گئی۔اس طرح خدا کے فضل کرم سے ربوہ اسٹیشن کا بابرکت افتتاح عمل میں آیا ہے اور اس وادی غیر ذی زرع کا رابطہ ریلوے نظام کے اعتبار سے پورے ملک سے قائم ہو گیا جس سے زائرین ربوہ کو بے انداز سہولت ہو گئی۔بیچنا نچہ پہلے تاریخی جلسہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اکثر و بیشتر مہمان بذریہ گاڑی ہی ربوہ کی مقدس سرزمین میں تشریف لائے۔b لے بذریعہ چھٹی 09/04/22 مورخہ له ۲۵ مارچ ۱۳۲۸ ۶ الفضل ۱۵ر شہادت / اپریل مش صفحه 4