تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 188
١٨٢ کہ ہمارے دفاتر اور کارکنوں کو اکٹھا رکھنے میں کام آسکتا ہے۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ فی بیرک چھ چھ مکان بن سکتے ہیں۔اور چونکہ پچاس یہ کیں ہیں اس لئے بعد میں بڑی آسانی سے تین سو مکان بن سکتا ہے۔اگر ہم ان مکانات کو سال بھر رہنے دیں تو دس ہزار ہیں کا نقصان اُٹھانے کی بجائے ہمیں کم سے کم چالیس ہزارہ روپیہ کی بچت ہوگی۔اگر ہم خیمے لگائیں تو ہمیں پچاس ہزار روپیہ سالانہ کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔اور اگر ہم خیمے خرید کر سال بھر کے بعد بیچیں تو ہمیں ساٹھ ستر ہزار روپے کا گھاٹا برداشت کرنا پڑے گا۔لیکن اگر یہ شیڈ اور مکانات اسی طرح پر کھڑے رہیں اور چھ چھ مکان فی بیرک بنا دیئے جائیں تو تین سو مکان بن بھائے گا۔ان پچاس شیڈوں کے علاوہ جو عارضی مکانات وہاں جلسہ سالانہ کے لئے بنائے جا رہے ہیں جن میں دفاتر بھی ہوں گے۔ناظروں کے لئے مکانات بھی ہوں گے پرائیویٹ سکوڑی کا بھی دفتر ہوگا اور میرا مکان بھی ہو گا۔اس پر ہمارے اخراجات کا اندازہ چار ہزار روپیہ ہے۔کیونکہ بہر حال کسی چھوٹی سی جگہ میں یہ سارے دفاتر نہیں آسکتے ہیں بارہ افسروں کے لئے جگہ کی ضرورت ہوگیا۔دفتر پرائیویٹ سکوڑی کے لئے جگہ کی ضرورت ہوگی اور پھر میری رہائش کے لئے جگہ کی ضرورت ہوگی۔اس کے لئے ہم نے جو نقشہ تجویز کیا ہے اس کے مطابق پیار ہزار خرچ کا اندازہ ہے۔اور اگر اس شوق کو پورے سال پر پھیلا دیا جائے تو پاس سو روپے ماہوار کا خرچ ہے جو سلسلہ کو برداشت کرنا پڑے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جلسہ سالانہ کے فورا بعد ہم دفاتر وہاں منتقل کرنا شروع کر دیں اور موجودہ عارضی عمارات کو قائم رکھیں تو بجائے نقصان کے ہمیں تھیں پھالیس ہزار روپیہ کا فائدہ رہے گا اور پھر مزید فائدہ یہ ہوگا کہ سب کا رکن اکٹھے رہیں گے اور کام میں پہلے کی نسبت زیادہ ترقی ہوگی کہ لے ربوہ اسٹیشن کی منظوری اور حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر میاں غلام محمد صاحب اختر عرصہ سے ربوہ اسٹیشن کی منظوری کے لئے مسلسل دوڑ دھوپ کر رہے گاڑیوں کی باقاعدہ آمد و رفت تھے جو خدا کے فضل و کرم سے جلسہ کے قریب آکر کامیاب ہو گئی ه الفضل اور شہادت / اپریل مش صفحه ۲ - ۰۴