تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 190
IAN صدر علیں خدام الاحمدیہ کی طرف سے چونکہ جلسہ کے انتظامات کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لئے سینکڑوں رضا کاروں کی اشد ضرورت تھی۔تربیت یافتہ رضا کاروں کیلئے پیل اس لئے صدر مجلس خدام الاحمدیہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احد صاحب نے بذریعہ افضل اپیل کی کہ خصوصاً فرقان فورس کے تربیت یافتہ نوجوان جو نظام سلسلہ کے تحت کام کر چکے ہیں زیادہ سے زیادہ جلسہ میں شامل ہوں اپنا خیمہ نصب کرنے کا سامان ہمراہ لائیں۔اور ارماہ شہادت اپریل کو ربوہ پہنچ کر دختر خدام الاحمدیہ میں اطلاع دیں تا اُن کی ڈیوٹی لگائی جاسکے لئے اس اپیل پر بہت سے نوجوان ربوہ پہنچ گئے۔جلسه بود کا افتان اور ترسید نا الصلح الموعود هارماہ شہادت / اپریل کو بوقت نو بجے صبح ربوہ کی سرزمین میں جماعت احمدیہ کا پہلا مبارک اور تاریخی کا ایمان افروز خطاب سالانہ میلہ حضرت مصلح موعود کی ایمان افروز تقریر اور ہزار ہا مومنین کی درد و کرب اور سوز و گداز سے بھری ہوئی عاجزانہ دعاؤں اور التجاؤں کے روح پرور ماحول میں شروع ہوا۔اس موقعہ پر حضرت مصلح موعود نے جو افتتاحی خطاب فرمایا۔اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔حضرت امیر المومنین نے تشہیر و تعوذ کے بعد سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی جس میں الحمد اللہ رب العالمین کا خصوصیت کے ساتھ تین بار تکرار فرمایا۔اس کے بعد حضور نے فرمایا : یہ جلسہ تقریروں کا جلسہ نہیں۔یہ جلسہ اپنے اندر ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ایسی تاریخی حیثیت جو مہینوں یا سالوں یا سدیوں تک نہیں بجائے گی بلکہ بنی نوع انسان کی اس دنیا پر جو زندگی ہے اس کے خاتمہ تک جائے گی۔اس میں شامل ہونے والے لوگ ایک جلسہ میں شامل نہیں ہو رہے بلکہ رُوحانی لحاظ سے وہ ایک نئی دنیا ، ایک نئی زمین اور ایک نئے آسمان کے بنانے میں شامل ہو رہے ہیں۔پس اس جبار کو تقریروں کا جلسہ مت سمجھو۔تقریریں ہوں یا نہ ہوں۔مختلف مضامین پر لیکچر سننے کا موقعہ ملے یا نہ ملے ، اس کا کوئی سوال نہیں جو اصل مقصد ہے وہ ہمارے سامنے رہنا چا ہیے۔اور جو اصل مقصد ہے اس کو ہمیں ہر چیز پر اہمیت دینی چاہئیے۔میں اب قرآن کریم کی کچھ آیتیں پڑھوں گا اور آہستہ آہستہ کئی ه الفضل - ارشہادت / اپریل کو مش صفحه 4