تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 181
140 سکتی ہے لیکن وہاں ایسا نہیں ہو سکتا۔مثلاً لا ہور میں سینکڑوں باورچیوں کی دکانیں ہیں۔اگر کسی وقت کھانا کم ہو جائے اور دو تین سو افراد کو کھانا بہتا کرنے کی ڈیوٹی پہ لگا دیا جائے تو میں سمجھتا ہوں دو تین گھنٹہ میں دس پندرہ ہزار آدمی کا کھانا آسانی سے مہیا ہو سکتا ہے۔لیکن جو مقصد میرے سامنے ہے وہ اس رنگ میں پورا نہیں ہو سکتا۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ لاہور کی بجائے ربوہ میں اس جلسہ کا انعقاد کیا جائے۔باقی رہا تکلیف کا سوال، سو یہ بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔اُس وادی غیر ذی زرع میں جس میں شور پانی نکلتا ہے ، اس وادی غیر ذی زرع میں جس میں چالیس چالیس پچاس پچاس میل تک کھیتی کا کہیں نشان تک نظر نہیں آقا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک لو گے بڑے بڑے وسیع جنگلوں میں سے گزرتے ہوئے ، ایسے جنگلوں میں سے جو صرف درندوں کے مسکن تھے ، ایسے جنگوں میں سے جہاں بعض دفعہ سو سو میل تک پانی کا ایک قطرہ تک میتر نہیں آتا تھا پیدل یا اُونٹنیوں پر سوالہ اپنے مشکیزوں میں پانی اُٹھائے حج کے لئے دوڑتے پچھلے آتے تھے ، اور دنوں نہیں ، جہینوں نہیں ، سالوں نہیں ، صدیوں نہیں ہزاروں سال تک وہ برابر ایسا کرتے چلے گئے۔ہماری جماعت کو ایسا بے ہمت تو نہیں ہونا چاہیے کہ اگر صرف ایک دفعہ انہیں یہ کام کرنا پڑے تو وہ گھبراہٹ کا اظہار کرنے لگ جائیں۔اس صورت میں بھی تم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکو گے کہ عرب کے قبل از اسلام لوگوں نے جو کام دو ہزارہ چار سو دفعہ کیا وہ ہم نے بھی ایک وقعہ کر لیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کا زمانہ ہم اکسو سے ۲۴ سو سال تک کا ہے اور ہر سال مجھ ہوتا ہے۔اس لئے اگر صرف حج کو ہی لے لیا جائے عمرہ کو جانے دیا جائے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جو میں سو دفعہ یہ کام ان لوگوں نے کیا بھلا کہ ان لوگوں میں سے اکثر وہ تھے جو زمانہ نبوت کے بہت دور تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ابتدائی چند نسلوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو مستشے کرتے ہوئے درمیان میں صرف کفر اور تاریکی اور بے دینی کا زمانہ تھا۔اس کفر کے زمانہ میں، اس تاریخی کے زمانہ میں، اس بے دینی اور الحاد کے زمانہ میں جو کام انہوں نے ۲۴ سود فعہ کیا بلکہ اگر گھر سے بھی