تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 180
14N ہوتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ربوہ ہی وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالے کا یہ منشا ہے کہ ہماری جماعت دوبارہ اپنا مرکز بنائے اور جب کوئی نئی بنگہ اختیار کی بجاتی ہے تو اس کے لئے دعائیں بھی کی جاتی ہیں، اس کے لئے صدقہ و خیرات بھی کیا جاتا ہے اور اس کے لئے اللہ تعالے کی مدد اور نصرت بھی طلب کی جاتی ہے، اور یہ بہترین وقت ہمیں جلسہ سالانہ کے دنوں میں ہی میتر آسکتا ہے کیونکہ اس موقعہ بچہ وہاں ہزاروں ہزار افراد جمع ہوں گے اور ہزاروں ہزار افراد کے جمع ہونے سے طبیعتوں پر جو اثر ہو سکتا ہے اور ہزاروں ہزارہ افراد کی متحدہ دعائیں جو تاثیر اپنے اندر رکھتی ہیں وہ صرف چند افراد کے جمع ہونے سے نہ اثر ہو سکتا ہے اور نہ اُن کی دُعائیں خواہ وہ سچے دل سے ہی کیوں نہ ہوں اتنی تاثیر رکھ سکتی ہیں جتنی ہزاروں ہزار افراد کی دعائیں اثر رکھتی ہیں انہی باتوں کو دیکھتے ہوئے لیکں نے مناسب سمجھا کہ ہم ربوہ کا افت تاج جلسہ سالانہ سے کریں اور خدا تعالیٰ سے اس مقام کے بابرکت ہونے کے لئے متحدہ طور پر دعائیں کریں۔بے شک ان شامل ہونے والوں میں غافل بھی ہوں گے ، سست بھی ہوں گے ، کمزور بھی ہوں گے، لیکن ان لوگوں میں چست بھی ہوں گے ، مخلص بھی ہوں گے ، سلسلہ کے فدا کار اور جانثار بھی ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بھی ہوں گے اور پیستوں اور خدا کاروں کی آواز کے ساتھ جب کمزوروں اور ناقص دعا کرنے والوں کی آواز خدا تعالیٰ کے سامنے "ہم" کہتے ہوئے پہنچے گی تو یقیناً اس " ہم “ میں جو برکت ہوگی وہ صرف چند افراد کے جاہتے سے نہیں ہو سکتی۔پس بجائے اس کے کہ ربوہ کا کوئی افتتاح نہ کیا جاتا اور بجائے اس کے کہ چند افراد جو وہاں بس رہے ہیں انہی کا مینا ربوہ کے افتتاح کے لئے کافی سمجھ لیا جاتا میں نے چاہا کہ ہمارا اس سال کا سالانہ جلسہ ربوہ میں ہو تاکہ جب ہماری جماعت کے ہزاروں ہزار افراد اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آئیں تو ہمارا جلسہ بھی ہو جائے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک بہت بڑی تعداد میں اکٹھے ہو کہ ہم متحدہ طور پر دعائیں کریں کہ وہ اس نظام کو احمدیت کے لئے بابرکت کرے اور اسے اسلام اور احمدیت کی اشاعت کا ایک زبر دست مرکز بنا دے۔میں جانتا ہوں کہ منتظمین کو تکلیف ہوگی اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ شاید ہمیں پورا سامان بھی میسر نہ آسکے۔یہاں اگر کسی چیز کی ضرورت محسوس ہو تو فوری طور پر نہتا ہو