تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 182
124 شامل کر لئے جائیں تو جو کام انہوں نے ۲۴ ہزار دفعہ کیا ہمیں اگر ویسا ہی کام صرف ایک دفعہ کرنا پڑے تو ہمارے نفسوں پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ ہم بھی ہوں گا کر شہیدوں میں مل گئے۔اللہ تعالے کی اپنے ہر کام میں حکمتیں ہوتی ہیں اور اس کی حکمتیں نہایت وسیع ہیں۔دُنیا ان چیزوں کو نہیں دیکھیتی بین کو خدا دیکھ رہا ہوتا ہے یا جن کو خدا کے دکھانے سے اس کے فرشتے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔بہت سے بیج دنیا میں بوئے جاتے ہیں مگر ان بیجوں کے اچھا ہونے کے با وجود، زمینوں کے اچھا ہونے کے باوجود ، نگرانی اور دیکھ بھال کے اچھا ہونے کے باوجود الہی مصلحت اور الہی تدبیران بیجوں کو نہ اُگنے دیتی ہے نہ بڑھنے دیتی ہے نہ پھل پیدا کرنے دیتی ہے۔مگر کئی بیچ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو سنگلاخ زمینوں اور شور بیابانوں میں بوئے جاتے ہیں۔ان کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ان کو پانی دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔مگر خدا تعالے کی مصلحتیں اور اس کی تقدیر ان بیجوں کو بڑھاتے بڑھاتے بہت بڑا سے درختوں کی صورت میں بدل دیتی ہے۔اتنے بڑے درخت کہ ہزاروں ہزار لوگ اُن کے پھل کھاتے اور ان کے آرام دہ سایہ میں ہزاروں سال تک پناہ حاصل کرتے ہیں۔خدا کے کام خدا ہی جانتا ہے۔انسانی عقلیں اور تدبیریں خدا تعالیٰ کی مصلحتوں اور تدبیروں پر حاوی نہیں ہو سکتیں۔ہم بھی کوشش کر رہتے ہیں کہ ایک شور زمین میں اپنا مرکز بنائیں۔عرش پر بیٹھنے والا خدا اور آسمان میں رہنے والے فرشتے ہی جانتے ہیں کہ ہماری اس ناچیز حقیر اور کمزور جد و جہد کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ہمارے لئے مشکلات بھی ہیں۔ہمارے راستہ میں روکیں بھی ہیں۔ہمارے سامنے دشمنیاں اور عداوتیں بھی ہیں۔لیکن ہوتا وہی ہے جو خدا چاہتا ہے اور انسانی عقل اور انسانی تدبیر آخر بیکار ہو کر رہ بھاتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں۔بلکہ ہم سمجھتے اور یقین ہی نہیں رکھتے ہم اپنی روھانی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ رہے ہیں جو دنیا کو نظر نہیں آتی۔ہم اپنی کمزوریوں کو بھی جانتے ہیں ، ہم مشکلات کو بھی جانتے ہیں جو ہمارے راستہ میں حائل ہیں، ہم مخالفت کے اس اُتار چڑھاؤ کو بھی بھانتے ہیں جو ہمارے سامنے آنے والا ہے۔ہم ان قتلوں اور