تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 179 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 179

جلسہ ہو سکیں گے۔اس لئے یا تو جلسہ کی تاریخیں بدل دی جائیں یا جلسہ ہی لاہور میں منعقد کیا جائے۔مگر حضور نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا بلکہ اُسوہ انبیاء و خلفاء کے عین مطابق اور رب کریم کے فرمان فَإِذَا عَزَمتَ نَتَوَعَل عَلَی اللہ کی تعمیل میں قطعی ارشاد فرمایا کہ یہ جلسہ بہر حال مقررہ تاریخوں پر ربوہ کیا میں ہوگا۔اور بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ موعود اولو العزم خلیفہ نے اپنے نور فراست و بصیرت کی بناء پر جو فیصلہ کیا وہی صحیح مناسب اور مبارک تھا۔ہی جلسہ ربوہ کا پس منظر کیا تھا اور اس کے راہ میں منعقد کئے جانے کی کیا حکمتیں کار فرماتیں حسرت اقدس نے اس پہلو پر نہایت شرح وبسط سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا : " جب کوئی شخص سمندر میں کودتا ہے یا کوئی جہاز غرق ہوتا ہے اور اس کی سواریاں سمندر میں گر جاتی ہیں تو آخر انہیں ساحل کی تلاش کرنی ہی پڑتی ہے۔اس ساحل کی جستجو میں خطرات بھی ہوتے ہیں اور اس کی جستجو میں خوف بھی لاحق ہوتے ہیں۔جب کوئی جہاز ڈوبتا ہے تو چاروں طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے اور انسان نہیں جانتا کہ میں دائیں گیا تو مجھے خشکی سے گی یا بائیں گیا تو مجھے خشکی ملے گی ، سامنے کی طرف گیا تو مجھے خشکی ملے گی یا پیچھے کی طرف گیا تو مجھے خشکی ملے گی۔یہ بھی انسان نہیں جانتا کہ اگر خشکی مجھ سے بہت دُور ہے اور میں کسی طرح بھی ساحل تک نہیں پہنچ سکتا تو اگر دائیں طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی میں سجائے گی یا بائیں طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی میں سجائے گئی ، آئینے کی طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی میل بجائے گی یا پچھے کی طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی۔ان آٹھوں باتوں میں سے اُسے کوئی بات بھی معلوم نہیں ہوتی۔مگر پھر بھی وہ ایک جگہ پر کھڑا نہیں رہتا۔بظاہر اس کا جگہ پر کھڑا رہنا یا ان چاروں جہات میں سے کسی ایک کا خشکی پر پہنچنے یا جہاز اور کشتی حاصل کرنے کے لئے اختیار کرنا برابر معلوم ہوتا ہے مگر باوجود اس کے کہ یہ سب باتیں برابر معلوم ہوتی ہیں۔انسان پھر بھی جد و جہد کرتا ہے اور ساحل یا کشتی کی تلاش میں دائیں بائیں یا آگے پیچھے ضرور جاتا ہے۔اسی طرح ہمیں بھی ساحل یا جہاز کے لئے جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے مقدر ہے ، جستجو اور تلاش کی ضرورت ہے اور جلد سے جلد کسی ایسے طریق کار کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے اندر ایک استقلال اور پائداری رکھتا ہو۔اس وقت تک جو کچھ خدا تعالے کی مثبت ظاہر