تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 46 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 46

ناپسندیدگی کی نظر سے دکھتی ہے ؟ ہسپانوی حکومت سرکاری طور پر کیتھولک گورنمنٹ ہے اس کا دعوی ہے کہ یہ مذہب پہنچا ہے جو خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کا ذریعہ اور اعلیٰ اخلاق کا حامل ہے۔میری تبلیغ کا مقصد بھی محض اعلیٰ اخلاق کا قیام اور بنی نوع انسان کا خدا تعالیٰ سے حقیقی تعلق قائم کرنا ہے۔میری تبلیغ کا واحد مقصد یہ ہے کہ خدائے وحدہ لا شریک کو تمام مخلوق پہچان لے۔نیز میں نے اس بات پر زور دیا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام ہرگز ملک سپین کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہیں بلکہ اس سرزمین کی حقیقی فلاح و بہبود کا خواہش مند ہے۔خط کا جواب ملا کہ وزیر خاریجہ صاحب نے آپ کے خط کا اچھا اثر لیا ہے۔در اصل ساری شرارت پادریوں کی ہے کہ انہوں نے پولیس والوں اور حکام کو انگیخت کی ہے یہ سے حضرت مصلح موعود کی طرف سے حکومت پی کے اس فیصلہ کی اطلاع ملے پر حضرت مصلح موعود نے ۲۰ شہادت / اپریل کو ربوہ میں ایک پر ملال خطبہ جمعہ میں زبر دست احتجاج خطبہ پڑھا جس میں فرمایا۔کرم الہی صاحب ظفر کو گورنمنٹ کی طرف سے نوٹس دیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہے۔چونکہ تم لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے ہو جو ہمارے ملک کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔اس لئے تمہیں وارننگ دی جاتی ہے کہ تم اس قسم کی قانون شکنی نہ کرو ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں ہمارا ملک اسلامی ملک کہلاتا ہے لیکن یہاں عیسائی پادری دھڑتے سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور کوئی انہیں عیسائیت کی تبلیغ سے نہیں روکتا لیکن وہاں ایک مبلغ کو اسلام کی تبلیغ سے روکا جاتا ہے اور پھر بھی ہماری حکومت اس کے خلاف کوئی پروٹسٹ نہیں کرتی۔وہ کہتے ہیں میں نے پاکستان کے ایمبیسڈر سے کہا کہ تمہیں تو ہسپانوی حکومت سے لڑنا چاہیئے تھا اور کہنا چاہیے تھا کہ تم اسلامی مبلغ پر کیوں پابندی عائد کرتے ہو؟ جبکہ حکومت پاکستان نے اپنے ملک میں عیسائی پادریوں کو تبلیغ کی اجازت دے رکھی ہے اور وہ ان پر کسی قسم کی له الفضل مروفا / جولائی ۳